سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 84
تربیت کا سب سے مقدم ذریعہ دعا تھا۔وہ شخص جو اپنی اولاد کے لئے اس کے خلعت وجود پہننے سے بھی پہلے انتہائی گریہ وزاری کے ساتھ دعائیں مانگتارہا ہوا یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ اپنی موجود اولاد کے بارہ میں دعاؤں سے غافل ہو جاتا جب کہ صورتِ احوال یہ تھی کہ دُعا پر آپ کا انحصار کرنا صرف اپنی اولاد کے معاملہ تک ہی محدود نہ تھا بلکہ اعتقاداً آپ دُعا کو ہر دوسرے ذریعہ پر اولیت دیتے تھے اور اسباب کی پیروی کو محض اس لئے اختیار فرماتے تھے کہ اسباب بھی خدا ہی کے پیدا کردہ ہیں اور ان کو اختیار کرنا بھی اُسی کی منشا کے مطابق ہے۔بسا اوقات جب آپ بعض لوگوں کو اس رنگ میں تربیت کرتا دیکھتے کہ گویا محض ان کی تربیت ہی پر بچوں کے اخلاق کے بنے یا بگڑنے کا انحصار ہے تو آپ کو اس سے شدید تکلیف ہوتی یہاں تک کہ آپ کے نزدیک دعا کے ذریعہ خدا سے مدد مانگنے کے بغیر تربیت کے دیگر ذرائع پر انحصار کرنا شرک کا درجہ رکھتا تھا۔مندرجہ ذیل بروایت ہمارے مافی الضمیر کو کھول کر بیان کرنے میں محمد ثابت ہو گی :- ایک مرتبہ ایک دوست نے اپنے بچے کو مارا۔آپ اس سے بہت متاثر ہوئے اور انہیں بلا کر بڑی درد انگیز تقریر میں فرمایا میرے نزدیک بچوں کو یوں مارنا شرک میں داخل ہے۔گویا بد مزاج مارنے والا ہدایت اور ربوبیت میں اپنے تئیں حصہ دار بنانا چاہتا ہے۔ایک جوش والا آدمی جب کسی بات پر سزا دیتا ہے تو اشتعال میں بڑھتے بڑھتے ایک دشمن کا رنگ اختیار کر لیتا ہے اور جرم کی حد سے سزا میں کوسوں تجاوز کر جاتا ہے۔اگر کوئی شخصی خود دار اور اپنے نفس کی باگ کو قابو سے نہ دینے والا اور پورا متحمل اور بردبار اور با سگون اور باوقار ہو تو اسے البتہ حق پہنچتا ہے کہ کسی وقت مناسب پر کسی حد تک بچہ کو سزا دے یا خشم نمائی کرے۔مگر مغضوب الغضب اور سبک سر اور طالش العقل ہرگز سزاوار نہیں کہ بچوں کی تربیت کا متکفل ہو جس طرح اور جس قدر سزا دینے میں کوشش کی جاتی ہے کاش دعا میں لگ جائیں اور بچوں کے لئے سوز دل سے دعا کرنے کو ایک حزب مقرر کر لیں۔اس لئے کہ والدین کی دُعا کو بچوں کے حق