سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 77 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 77

غول تھا۔پہلے کچھ دیر آپس میں کھیلتے جھگڑتے رہے پھر جو کچھ دل میں آئی حضرت صاحب کے لکھے ہوئے مسودات کو آگ لگا دی۔اور آپ لگے خوش ہونے اور تالیاں بجانے۔اور حضرت لکھنے میں مصروف ہیں سر اٹھا کر دیکھتے بھی نہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔اتنے میں آگ بجھ گئی اور قیمتی مستورات راکھ کا ڈھیر ہو گئے اور بچوں کو کسی اور مشغلے نے اپنی طرف کھینچ لیا۔حضرت کو سیاق عبارت ملانے کے لئے کسی گذشتہ کاغذ کے دیکھنے کی ضرورت محسوس ہوتی۔اس سے پوچھتے ہیں، خاموش دیکا جاتا ہے۔آخر ایک بچہ بول اُٹھا کہ میاں صاحب نے کاغذ جلا دیتے ہیں۔عورتیں اور بچے اور گھر کے سب لوگ انگشت بدنداں، اب کیا ہوگا اور در حقیقت عادتاً ان سب کو علی قدر مراتب بُری حالت اور مکر وہ نظارہ کے پیش آنے کا گمان اور انتظار تھا اور ہونا بھی چاہیئے تھا۔مگر حضرت مسکرا کر فرماتے ہیں۔خوب ہوا، اس میں اللہ تعالے کی کوئی بڑی مصلحت ہو گی اور اب خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس سے بہتر مضمون ہمیں سمجھائے لے اس حلم اور بردباری کا یہ مطلب ہر گز نہ تھا کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیه السلام تربیت اولاد کی حکمت سے نا واقف تھے یا ایسی ماؤں کی طرح جو اپنے حد سے بڑھے ہوئے پیار پر اختیار نہیں رکھتیں، تربیت کے فرض سے بے نیاز ہو کر اپنے بچوں کی محبت سے مغلوب ہو جاتے تھے۔دراصل آپ کی تربیت کا انداز بالکل منفرد اور نہایت لطیف تھا۔اور جیسا کہ آگے چل کر بیان ہونے والے واقعات سے ظاہر ہوگا۔بعض مواقع پر آپ اپنے بچوں سے سختی سے بھی پیش آتے رہے۔فرق صرف یہ ہے کہ جہاں تک ایسے امور کا تعلق ہے جن کے اثر کا دائرہ آپ کی ذات تک محدود تھا، آپ نے حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب پر کبھی سختی نہیں کی خواہ ان کے کسی فعل سے آپ کو کیسی ہی ذاتی تکلیف پہنچی ہو۔مگر جہاں تک امور دینیہ کا تعلق ہے یا ایسی غلطیوں کا سوال ہے جن کے نتیجہ میں اخلاق پر برا اثر پڑنے کا خطرہ ہو سکتا تھا وہاں آپ نے موقع محل کے مطابق کبھی نرمی سے اور تبھی سختی سے آپ کو اس طرف توجہ ضرور دلائی۔یہ فرق سیح موعود مصنفہ حضر مولانا عبد الكريم ض ص ۱۲-۱۳