سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 63 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 63

دنوں تک سر سبنر رہے گی۔ت غایت درجہ تین سال تک شهرت رہے گی " پنڈت لیکھرام کے طرز کلام کو دیکھ کر مبادا کسی کو شبہ گزرے کہ یہ شخص آریہ لیڈر نہیں بلکہ یوں ہی کوئی غیر معروف نا قابل التفات شخص تھا۔آریہ ورت میں پنڈت لیکھرام کے مقام اور شخصیت کے بارہ میں مختصر تعارف کلیات آریہ مسافر کے دیباچہ سے پیش خدمت ہے :- " آریہ سماج کے دائرہ میں پنڈت لیکھرام کا نام بچے سے لے کر بوڑھے تک جانتا ہے اور جب تک آریہ سماج کا وجود ہے، پنڈت جی کی شہادت کسی کو نہیں بھول سکتی۔虹 سوائے پنڈت لیکھرام کے اور کوئی شخص اس کام کے لائق نہ سمجھا گیا۔اس وقت سے برابر دیشا منتروں میں ویدک دھرم کا پرچار کرتے ہوئے آریہ مسافر نے دو شہرت حاصل کی جو شاید ہی کسی موجودہ مذہبی واعظ کے نصیب ہوتی ہو گی سے آریہ سماج کے لٹریچر میں سے شری سوامی دیانند جی کی تصانیف کے بعد اگر کسی لٹریچر کی زیادہ مانگ ہے تو وہ آریہ مسافر ( پنڈت لیکھرام کی تصانیف ہیں۔پنڈت لیکھرام کا شمار گو اس جماعت میں نہیں ہو سکتا جس میں بدھ اور شنکر تانک اور دیانند وغیرہ اپنے چند روپ سے سنسار کو روشن کرتے ہوئے شانتی کی برت کر رہے ہیں۔لیکن اس میں سند یہ نہیں کہ وہ (پنڈت لیکھرام) اُن چمکتے ہوئے ستاروں میں سے ایک تھے جو کہ ایسے چند رماؤں کی شو بہا کو دوبالا کر رہے ہیں ھے آئیے اب ہم کچھ دیر کے لئے لیکھرام کو اس کے حال پر رہنے دیں مستقبل کے وہ پر دے ایک ایک کر کے اُٹھ چکے ہیں جن کے پیچھے اس مقابلے کے پیچ اور جھوٹ کا فیصلہ چھپا ہوا تھا زمانے کا نہ رکنے والا پہیہ ہمیں چھیاسی برس آگے لے آیا ہے اور ہمارے لئے اس مقابلے کا نتیجہ مستقبل پر i 19+1 ے کلیات اربد مسافر حصہ سوم مه ۲۹ تا شام نه اريد مسافر شمید نمبر مارچ شاء من م کے آریہ مسافر شهید نمبر مارچ ۱۹۲۳ء ۳۲ که ۵۰ه کلیات آریہ مسافر دیباچه صوج