سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 56
اپنے بیٹے کے حق میں جو ابھی پیدا بھی نہ ہوا ہو۔یہ دعوی کرنے کی جرات کر سکتا ہے اور اپنی سچائی کا دار و مدار اس دعوئی کے پورا ہونے پر رکھ سکتا ہے۔پھر اگر یہ توفیق ملیتر آبھی جائے کہ اپنے مذہب کے مقدس صحیفہ کے اسرار و معارف پر اس قدر دسترس حاصل کرے تو وہ ذرائع میسر آنے کی ضمانت کیا ہے جن سے کام لے کر وہ اپنے خدا داد انکشافات کو مختلف زبانوں کے تراجم میں ڈھال کر دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کا انتظام کر سکے۔انتہائی نا مجھی اور سخت تعصب سے کام لئے بغیر کون یہ ! کہہ سکتا ہے کہ ایسی عظیم الشان پیشگوئی کرنا اور پھر اسکا پورا ہو جانا نعوذ باللہ ایک مفتری کا کام بھی ہو سکتا ہے اور اتفاقاً بھی یہ واقعہ ظہور پذیر ہو سکتا ہے اور خدا تعالیٰ کی قربت اور محبت کا اس میں کوئی نشان نہیں۔اگر ایسا ممکن ہوتا تو کیوں اس نوعیت کی پیشگوئی کسی مخالف نے ملا کر کے نہ دکھا دی ؟ اس واقعہ کو توستانشی برس گزر چکے ہیں، گویا ایک صدی تمام ہوا چاہتی ہے۔کیا آج بھی کوئی ہے جو ایسا کرنے کی جرات کر سکے یا کل کوئی ہوگا ، چیلینج کا یہ ابد تک پھیلا ہوا راستہ ہے، کون ہے جو اس پر قدم مارنے کی جرات کرے گا ؟ اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر ایسی پیشگوئی نہ کوئی کر سکتا تھا نہ کر سکے گا۔سوائے اس کے کہ خود اپنے ہی ہاتھوں اپنی ابدی ذلت اور رسوائی کا سامان کرنا چاہے۔ہم یہ دعوی کسی اندھے عقیدہ کی وجہ سے نہیں کر رہے بلکہ ہر منصف مزاج اسی شدت کے ساتھ اس دعوئی کی تصدیق کرے گا اور اگر خدا تعالٰی کا کوئی وجود ہے اور وہ ہمارے افعال پر نظر رکھتا ہے اور کار خانہ قدرت کے سیاہ وسفید میں اس کا کوئی عمل دخل ہے تو گو یہ تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ کوئی شخص اپنے پاگل پن میں یا از او انتزار کوئی ایسی بڑ ٹانک دے جس کا تعلق آئندہ تین چوتھائی صدی پر پھیلے ہوئے واقعات سے ہو۔لیکن یہ بہر حال یا ور نہیں کیا جا سکتا کہ ایک زندہ اور فعال رب جو تمام قوانین قدرت کی باگ ڈور سنبھالے ہوتے ہوا وہ اس جھوٹے دعویدار کے منہ سے نکلی ہوئی ایک ایک بات کو پورا کر دکھائے اور اسے غیب کے اُن اَن گنت مخفی در مخفی اسباب پر غلبہ عطا کرے جن پر ایک خاص شکل اور خاص ترتیب سے خاص وقتوں پر ہی مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات کا انحصار ہوتا۔انہی اشکال ضروریہ کی وجہ سے گذشتہ ایک صدی میں حضرت مرزا صاحب کے سوا کوئی اور شخص ایسا دعوئی نہ کر سکا۔ہاں صرف ایک بد قسمت کو یہ جرات ہوئی کہ اس پیشگوئی کے بالمقابل اور برعکس ایک منفی نوعیت کی پیشگوئی کرے۔اس پیشگوئی کرنے والے کا حال چونکہ کسی قدر تفصیل کے ساتھ آگے بیان کیا جائے گا لہذا فی الحال ہم اس مضمون کو چھوڑ کر موخر الذکر مخالف طبقہ کے رد عمل کو لیتے ہیں :-۔۔