سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 55
۵۵ میں چند دن کا کھیل ہو جس کے متعلق یہ دعوی کیا جارہا ہو کہ خدا پر افتراء کرنے والا ہے اور اس جرم کی پاداش میں خدا کا قہری ہاتھ اُسے آج یا کل اس طرح نیست و نابود کرنے والا ہے کہ صفحہ ہستی سے ہمیشہ کے لئے اُس کا نشان مٹ جائے گا۔اگر وہ مرد صادق نہ ہوتا تو کیسے ممکن تھا کہ ان حالات ہیں وہ ایسے عظیم الشان اور بے نظیر صاحب عظمت و شکوہ بیٹے کی ولادت کی پیشگوئی کرنے کی جرات کرتا جس کے پورا نہ ہونے کے ظاہری امکانات پورا ہونے کے امکانات سے ہزاروں گنا بڑھ کر تھے۔اس حقیقت سے آنکھیں بند کرنا انصاف کا خون کرنا ہے کہ جس بیٹے کی ولادت کی خبر دی جا رہی ہے وہ ہزاروں میں سے ایک نہیں لاکھوں میں سے ایک نہیں کروڑوں اور اربوں میں سے ایک ہے صرف یہی نہیں کہ مجموعی طور پر اس پیشگوئی کو پورا کر دکھانا کسی انسان کے بس کی بات نہیں، بلکہ اس پیشگوئی کے بہت سے اجزاء ایسے ہیں جن میں سے کسی ایک کو پورا کرنے کی بھی کسی انسان کو قدرت نہیں۔کون ایسا مسلمان ہے جو سخت جرات اور بے باکی دکھاتے ہوئے اپنے اس دعونی کو خدا کی طرف منسوب کر سکتا ہے کہ اسے ایک ایسا بیٹا عطا ہو گا جو کلام اللہ کا مرتبہ اور مشرف تمام دنیا پر ظاہر کر دے گا۔کون عیسائی ایسا ہے جو یہ دعوی کر سکے کہ اس کے بیٹے کو بائیل کا ایسا علم عطا ہو گا کہ تمام دنیا پر با تکمیل کی فضیلت ثابت کر دکھائے گا۔اور کون ہندو ہے جو دیدوں کے بارہ میں اور کون سکھ ہے جو گر تھے کے متعلق اپنے پیدا ہونے والے بیٹے کی طرف یہ خدمت منسوب کر سکے ؟ بیٹے ایسے دعوئی کے بعد پیدا ہوں بھی تو مرجاتے ہیں اور اگر زندہ بھی رہیں تو سوطرح کی بیماریاں اور ناگہانی آفات ان کی راہ روکے کھڑی رہتی ہیں۔ان سب آفات سے بچ بھی نکلیں تو وہ ذہنی قابلتیں پیدا کرنا ان کے بس کی بات نہیں ہوتی جو علمی نشو و نما کا موجب بنتی ہیں۔ایسی قابلیتیں پیدا ہو بھی جائیں تو ان کے ضائع ہونے یا غلط راستوں پر بھٹک جانے کے خطرات صحیح راستوں پر گامزن ہونے کے امکانات کی نسبت زیادہ ہوتے ہیں اور اگر وہ صحیح راستوں کی طرف چل بھی پڑیں تو کوئی نہیں جو اُن کی دلچسپی کا رخ خاص سمت میں موڑ سکے، کوئی نہیں جو یہ تعین کر سکے کہ علم کی بے شمار شاخوں میں سے کون سی شاخ ان کو مرغوب ہوگی۔اگر رجحان مذہبی بھی ہو توکون ضمانت دے سکتا ہے کہ باپ کا مذہب ہی بیٹے کو مرغوب ہوگا۔اگر حُسنِ اتفاق سے ایسا بھی ہو جائے تو اس مذہب کی کتاب مقدس سے مالا مال ہو جانا اور غیر مذاہب کی کتب پر اس کی فضیلت ثابت کرنے کی توفیق پا جانا یہ بھلا کس کسی کو نصیب ہوتا ہے۔یہ بحث تو آگے آئے گی کہ کس حتنک حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو یہ توفیق نصیب ہوئی۔یہاں ذکر صرف اتنا ہے کہ کون باپ