سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 50
اور اسلام کو تمام ادیان پر غالب کرنے کا باعث بنے اور اس کی برکتوں سے رُوئے زمین پر لینے والی تمام قومیں حصہ پائیں۔اُس وقت آپ کی عمر پچاس برس سے متجاوز ہو چکی تھی اور ظاہر زندگی کے بیشتر ایام گزر چکے تھے۔دن بدن آپ کا یہ احساس شدت اختیار کرتا چلا جارہا تھا کہ خدمت کے دن تو تھوڑے رہتے جاتے ہیں اور اسلام کی فتح کا دن ابھی دور نظر آتا ہے۔اس درد میں کتنی بے قراری تھی اور یہ کرب آپ کو کیسے کیسے تڑپا تا تھا۔اس کا کچھ اندازہ آپ کے بعض اشعار سے لگایا جاسکتا ہے جن میں سے چند ایک مثال کے طور پر پیش ہیں :- پھر بہار دیں کو دکھلا اسے میرے پیارے قدیر کب تلک دیکھیں گے ہم لوگوں کے بہکانے کے دن دن چڑھا ہے دُشمنان دیں کا ہم پر رات ہے اے میرے سورج دیکھا اِس دیس کے چپکانے کے دن دل گھٹتا جاتا ہے ہر دم جاں بھی ہے زیر وزیر اک نظر فرما کہ جلد آئیں ترے آنے کے دن چہرہ دکھلا کر مجھے کر دیجئے غم سے رہا کب تلک لیے چلے جائیں گے ترسانے کے دن کچھ خبر لے تیرے کوچہ میں یہ کس کا شور ہے کیا مرے دلدار تو آئے گا مرجانے کے دن دین اسلام کو سرخرو اور کامران دیکھنے کی بیخت بے قرار تمنا لئے آپ اپنے رب سے اس کی رحمت اور قربت کا نشان مانگنے کی طرف متوجہ ہوئے اور اس غرض سے آپ نے ہوشیار پور کے قصبہ میں ایک مکان میں تنہا چالیس دن کے لئے گوشہ نشینی اختیار کی۔چالیس دن شب و روز عبادت اور گریہ وزاری کرتے ہوئے آپ نے اپنے رب سے ایک ایسے باکمال فرزند کی ولادت کی التجا کی جو دین اسلام کی فضیلت اور کلام اللہ کا مرتبہ دنیا پر ظاہر کرنے کے لئے ہر ضروری صفت سے متصف ہو اور اسے دینِ اسلام کی کامیاب خدمت کی بھر پور توفیق عطا ہو۔آپ نے چالیس روز کے بعد اس چلہ کے اختتام پر بذریعہ اشتہار یہ اعلان فرمایا کہ جو کچھ میں نے خدا سے مانگا تھا، وہ اس نے اپنی بے پایاں رحمت اور کمال شفقت کے نتیجہ میں مجھے عطا فرمانے کا وعدہ فرمایا ہے اور ایک ایسے متصف بہ صفات حسنہ ذی شان بیٹے کی ولادت با سعادت کی خوش خبری دی ہے جو اپنی غیر معمولی صفات اور عظیم الشان خدمت اسلام کے ذریعہ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا۔آپ نے نشان کی طالب دنیا کو بتایا کہ : " بالعام اللہ تعالٰی و اعلامه عز و جل خدائے رحیم و کریم بزرگ و برتر نے جو ہر چیز پر قادر ہے جل شانه ے خاتمہ حقیقة الوحی صفحه آخر مطبوعه شه