سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page v of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page v

جلد اوّل سے متعلق ایک ضروری صراحت سوانح فضل عمر کی جلد اول میں قارتمین بہت سا ایسا مواد بھی پائیں گے جو براہ راست سوانح حضرت فضل عمر رضی اللہ عنہ کے موضوع سے تعلق نہیں رکھتا۔مثلاً مذہبی پس منظر - احمدیت کا تعارف تاریخ احمدیت کے کچھ احوال وغیرہ۔یہ بظاہر بے تعلق مواد ایک مجبوری کے تحت پیش کیا جا رہا ہے۔اور منظر غائر دیکھا جائے تو کچھ ایسا بے تعلقی بھی معلوم نہ ہوگا۔وہ قارئین جو احمدیت سے کسی حد تک شناسائیں اُن کے لئے تو حضرت فضل عمر رضی الله عنه کی سوانح حیات کو کما حقہ سمجھنا چنداں مشکل نہ ہوگا مگر ہمارے پیش نظر ایسے قارئین بھی ہیں جو ہمارے ہم وطن ہونے کے باوجود تحریک احمدیت سے بنیادی طور پر نا آشنا ہوں بلکہ جو کچھ جانتے ہوں وہ محض دشمن کی زبان سے پہنچی ہوئی کہانی کی حد تک۔ایسے دوستوں کو جب تک احمدیت کے اصلی خد و خال سے روشناس نہ کروایا جاتا اُن کے لئے حضرت فضل عمر رضی اللہ عنہ کی سوانح حیات صحیح معنوں میں سمجھنا مشکل ہوتا۔تعارف احمدیت کے علاوہ تاریخ احمدیت کے بعض پہلوؤں کا ذکر بھی ایک وجہ سے ناگزیر تھا۔حضرت فضل عمر رضی اللہ عنہ کے باون سالہ دور خلافت میں آپ کی سوانح کے خطوط کو تاریخ احمدیت کے خطوط سے کلیتہ الگ کرنا کسی طرح ممکن نہیں۔لہذا اس سے قبل کے نسبتا مختصر دور میں اگر تاریخ احمدیت کو کلیت نظر انداز کر دیا جاتا تو سوانح کی بعد کی جلدوں میں قارئین یقیناً جابجا تشنگی محسوس کرتے۔بهذا ربط کلام کی خاطر تاریخ احمدیت کے محض اُن پہلوؤں کا ذکر اس جلد میں کیا گیا ہے جو آپ کی زندگی پر کسی نہ کسی حد تک اثر انداز ہوتے یا آپ کی زندگی جن سے کسی رنگ میں اثر پذیر ہوتی۔ہماری کوشش ہوگی کہ تمام سوانح حیات قریباً تین جلدوں میں یا کم وبیش بارہ صد صفحات کے اندر مکمل ہو جاتے لیکن حضرت فضل عمر رضی اللہ عنہ کی بھر اُوپر زندگی اور بے شمار قابل ذکر کارناموں تصانیف اور تقاریر کے پیش نظر اتنے تھوڑے صفحات میں اس کام کو سمیٹنا ایک مشکل امر ضرور ہے۔زیر نظر جلدمیں ہی اقتباسات کے اختیار و ترک کے مسئلہ نے کئی ماہ تک ہماری توجہ کو اپنی طرف مبذول کئے رکھا۔