سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 29
۲۹ شہرت دُوں گا۔پس یہ اس خدا سے پوچھو کہ ایسا تو نے کیوں کیا ہے میرا اس میں کیا قصور ہے۔اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو سیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے۔اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا، مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے اوپر نازل ہوئی اُس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے اُتنی ہے حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی وفات اور حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ہی کسی امتی کے مقام مسیحیت پر فائز ہونے کا اعلان ایک عظیم دھماکہ بن کر مسلمان اور عیسائی دنیا میں زلزلہ بر پا کر گیا۔لیکن قبل اس کے کہ اس پہلو پر مزید کچھ روشنی ڈالی جائے مناسب ہوگا کہ مختصراً اس انقلاب آفریں اعلان کا جائزہ لیا جائے۔اس دعونی کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لینا اس لئے بھی اشد ضروری ہے که در اصل احمدیت کی حقیقت اسی دعوئی کے گرد گھوم رہی ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں کو سمجھے بغیر احمدیت کا مزاج سمجھنا ممکن نہیں۔بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ احمدیت کا امتیازی نشان اسی عقیدہ میں مضمر ہے کہ : " مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکے اور دعت کے موافق ان کے رنگ میں رنگین ہو کا کر حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام مبعوث ہوتے " اس ضمن میں حسب ذیل اہم سوالات چھان بین کے لائق نظر آتے ہیں :- (3) کیا قرآن کریم اور حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی رو سے حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کا زندہ آسمان پر جانا اور تاحکم ثانی اپنے نزول کے انتظار میں وہیں قیام فرمانا ثابت ہے؟ اگر ایسا ہے تو حضرت مرزا صاحب کے مذکورہ بالا دعوی کی کیا حقیقت رہ جاتی ہے ؟ (ب) اگر قرآن وحدیث سے حضرت عیسے علیہ السلام کی حیات کی بجائے وفات ثابت ہوتی ہو تو ان احادیث نبویہ کے کیا معنے لئے جائیں گے جن کے مطابق آخری انے روحانی خزائن جلد ۳۲ حقیقت الوحی ص ۱۵ تا ۱۵۴۔۔