سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 336 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 336

مسیح موعود علیہ السلام کی وصیت کے مطابق خلافت کا نظام ضرور کی ہے اور جس طرح حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ جماعت کے مطاع تھے اسی طرح آئندہ خلیفہ بھی مطاع ہوگا۔اس نوٹ پر حاضر الوقت لوگوں سے دستخط لئے گئے تاکہ یہ اس بات کا ثبوت ہو کہ جماعت کی اکثریت نظام خلافت کے حق میں ہے۔حالات بڑی تیزی سے نازک تر ہوتے جارہے تھے اور جو آتشیں مادہ مدت سے اُبل رہا تھا، اب پھٹ پڑنے کو تھا۔اس صورتحال کے تدارک کے لئے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے باہمی سمجھوتے کے لئے ایک آخری کوشش ضروری کبھی۔چنانچہ فریقین کے چند زعما۔اس غرض کے لئے نواب محمد علی خان صاحب کی کو بھٹی میں جمع ہوئے حضرت صاحبزادہ صاحب کی طرف سے یہ امر پوری وضاحت کے ساتھ پیش کیا گیا کہ اس وقت سوال اصول کا ہے کسی کی ذات کا نہیں۔اگر آپ لوگ خلافت کے اصول کو تسلیم کر لیں تو ہم خدا کو حاضر و ناظر جان کر عہد کرتے ہیں کہ مومنوں کی کثرت رائے سے جو بھی خلیفہ منتخب ہو گا خواہ وہ کسی پارٹی کا ہو ہم سب دل و جان سے اس کی خلافت کو قبول کریں گے مگر منکرین خلافت نے اس مخلصانہ اور با اصول پیشکش کو قبول نہ کیا اور ہر قسم کے سمجھوتے سے انکار کردیا۔اس پر پھر ان لوگوں سے استدعا کی گئی اگر آپ حضرات خلافت کے اتنے ہی مخالف میں تو ہمارا آپ پر کوئی زور نہیں لیکن جو لوگ خلافت کو ضروری خیال کرتے ہیں، خدا را آپ اُن کے راستہ میں تو ردک نہ بنیں اور انہیں اپنے میں سے کوئی خلیفہ منتخب کر کے ایک ہاتھ پر جمع ہونے کا موقع دیں۔لیکن یہ مخلصانہ اپیل بھی صدا بصحرا ثابت ہوئی اور اتحاد کی کوئی صورت وہ لوگ ماننے کے لئے تیار نہ ہوئے۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے ذاتی طور پر بھی جناب مولوی محمد علی صاحب ایم اے سے اس سلسلہ میں بات چیت کی۔اس بات چیت کے دوران مولوی صاحب نے آپ سے کہا کہ چونکہ ہر ایک کام بعد مشورہ ہی اچھا ثابت ہوتا ہے اس لئے حضرت خلیفہ المسیح رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد جلدی سے کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہیئے بلکہ پورے مشورہ کے بعد کوئی کام ہونا چاہیئے۔آپ نے اُن سے کہا کہ جلدی کا کام بیشک بُرا ہوتا ہے اور مشورہ کے بعد ہی کام ہونا چاہیے اور ایک روز انتظار کر لیا جائے جب بیرونی جماعتوں سے احباب بکثرت شریف لے آئیں تو مشورہ ہو جاوے میولوی صاحب نے اس تجویز کو ر ذکرتے ہوئے فرمایا، چونکہ اختلاف ہے اس لئے پورے طور پر بحث ہو کر ایک بات پر متفق ہو کر کام کرنا چاہیے۔پچار پانچ ماہ اس پر تمام جماعت غور کرے۔تبادلہ خیالات کے بعد پھر جو فیصلہ ہو اس پر عمل کیا جاوے۔آپ نے دریافت کیا 140 لے تاریخ احمدیت جلد ۴ ص ۵۸۲ ، آتنیه صداقت صن ، رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹ م