سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 335 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 335

۳۳۵ یا ہر دوستوں کا غم سے برا حال ہوا جاتا تھا۔جس نے بھی یہ خبر سُنی پریشان حال دوڑتا ہوا دار السلام پہنچا۔چنانچہ بہت جلد غمزدہ مخلصین کی ایک بھاری تعداد کو بھی کے وسیع و عریض بیرونی صحن میں جمع ہو گئی۔اسی حالت میں نماز عصر کا وقت ہو گیا اور سب احباب نماز کے لئے مسجد نور میں جمع ہو گئے۔نماز کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے ایک مختصر تقریر فرمائی اور فرمایا کہ یہ ایک نازک وقت ہے اور جماعت کے لئے ایک بھاری ابتلاء کی گھڑی در پیش ہے سب لوگ گریہ وزاری کے ساتھ اپنے خدا کے حضور دعائیں کریں کہ وہ اس اندھیرے وقت میں جماعت کے لئے روشنی پیدا فرمائے اور نہیں ہر رنگ میں ٹھوکر سے بچا کر اس راستہ پر ڈال دیے جو جماعت کے لئے بہتر اور مبارک ہے۔جن لوگوں کو طاقت ہو وہ کل ہفتہ کے دن روزہ رکھیں تاکہ راست کی نمازوں اور دعاؤں کے ساتھ کل کا دن بھی دُعا اور ذکر الہی میں گزرے۔اس تقریر نے سکینت اور تسلی کی ایک لہردلوں میں دوڑا دی اور سبھی اپنے خدا کے حضور جھلکتے اور اُسی سے فضل کی التجا کرتے ہوئے عاجزانہ دعاؤں میں لگ گئے۔ادھر شمع خلافت کے پروانوں کی یہ حالت تھی اُدھر مہنگرین خلافت کا یہ حال تھا کہ وصال کی خبر سُنتے ہی مختلف جماعتوں میں کارندے دوڑا دیئے تاکہ تمام جماعتوں میں فوری طور پر ایک ایسا رسالہ تقسیم کر دیا جائے جو انکارِ خلافت سے متعلق پراپیگنڈے پرمشتمل تھا۔اور جو پہلے ہی سے تصنیف اور طبع ہو کر اس انتظار میں تیار پڑا تھا کہ جو نہی حضرت خلیفہ المسیح کا وصال ہوا پہلے سے مقرر کردہ کارکنان ان رسالوں کو لے اورمیں اور تمام جماعتوں میں تقسیم کر دیں۔یہ رسالہ میں اکیس صفحات کا تھا جس کے مضمون کا خلاصہ یہ تھا کہ جماعت میں خلافت کے نظام کی ضرورت نہیں بلکہ انجمن کا انتظام ہی کافی ہے البتہ غیر احمدیوں سے بیعت لینے کی غرض سے اور حضرت خلیفہ اول کی وصیت کے احترام میں کسی شخص کو بطور امیر مقرر کیا جاسکتا ہے مگر یہ شخص جانت یا صدر انجمن کا مطارع نہیں ہو گا بلکہ اس کی امارت محدود اور مشروط ہوگی۔** اس رسالہ میں طرح طرح سے جماعت کو ابھارا گیا تھا کہ وہ کسی واجب الاطاعت خلافت پر رضا مند نہ ہو۔اس رسالہ کی اشاعت کی خبر بہت جلد قادیان میں پھیل گئی جس سے سوگوار مخلصین کی تشویش میں مزید اضافہ ہونا ایک طبیعی امر تھا۔مکرم مولانا محمد علی صاحب کے اس خطرناک اقدام کا وسیع پیمانے پر فوری تدارک کرنا تو ان حالات میں بہت مشکل تھا۔لیکن بالکل خاموش رہنا بھی خطرات سے خالی نہ تھا۔اس لئے قادیان میں حاضر الوقت احمدیوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے غلامان خلافت کی طرف سے ایک مختصر نوٹ تیار کیا گیا جس کا مضمون یہ تھا کہ جماعت میں اسلام کی تعلیم اور حضرت