سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 327 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 327

الم سكر عہد خلافت اُولیٰ کے آخری ایام 1411 حضرت خلیفہ المسج حکیم مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ اوائل لہ میں ایک مرتبہ گھوڑے سے گر کر شدید زخمی ہوتے تھے اور ایک لمبا عرصہ صاحب فراش رہنے کے بعد گو بڑی ہمت اور پامردی کے ساتھ خلافت کی عظیم ذمہ داریوں کی سرانجام دہی میں پہلے کی طرح تن دہی سے مصروف ہو گئے، لیکن آپ کی صحت پر اس حادثہ کے بداثرات بہت گہرے اور دیر پا ثابت ہوئے اور عملاً آپ کے جسم کو اس تکلیف نے ڈھال اور کھلکا کردیا تھا چنانچہ حضور کی یہ عادت تھی کہ اپنی جسمانی تکالیف کا ذکر کریں لیکن جب کبھی کسی طبقہ سے دُکھ پہنچتا تھا تو ان کی دلآزار باتوں پر بطور شکوہ یہ فرما دیا کرتے تھے کہ میں انتہائی تکلیف اور جسمانی آنهاد کے با وجود محض خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر تم لوگوں کی بہبود کے لئے اس حد تک کوشاں ہوں کہ دعائیں کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں نباہ رہا ہوں۔لہذا تمہیں یہی خیال کر کے ایسی باتوں سے پر ہیز کرنا لازم تھا جن سے مجھے دکھ پہنچے۔بہر حال اس بڑھاپے میں آپ نے بڑی جسمانی سختی اور تکلیف اُٹھا کر بھی اپنے جسم کو خدمت دین کے لئے مسخر کئے رکھا۔کے جلسہ سالانہ کا واقعہ ہے کہ طبیعت کی خرابی کے با وجود احباب جماعت کی دلداری کی خاطر تقریر کے لئے تشریف لے آئے لیکن ابھی چند ہی کلمات فرماتے تھے کہ اچانک بیماری اتنی بڑھ گئی نہ ؟ ی که مرید شهر ناممکن نہ رہا۔ایک ہی ماہ بعد یعنی جنوری 19ء میں رات بستر سے اُٹھنے پر چکر آیا اور سینے کے بل زمین پر گرنے سے ایک مرتبہ پھر شدید ضربات پہنچیں اور ہلکی حرارت اور قے کے عارضے لاحق ہو گئے یہاں تک کہ چلنے پھرنے سے معذور اور صاحب فراش ہو گئے۔اس حالت میں بھی جب ذرا طاقت محسوس فرماتے بستر پر لیٹے لیٹے ہی قرآن کریم کا درس دیتے۔جماعت کے مخلصین پر آپ کی اس بیماری کا جو بعد میں مرض الموت ثابت ہوئی ، بہت گہرا اثر تھا۔ذہن پریشان اور فکر مند تھے اور دل اپنے محبوب آقا کی تکلیف سے پکھلے جاتے تھے۔ایسے نازک وقتوں میں عموماً اختلافات اگر میٹ نہیں سکتے تو وقتی طور پر بھلا دیئے جاتے ہیں اور خشیت انہی دلوں کو نرم کرتی اور بھائیوں کی تقصیرات کو معاف کرنے کے لئے آمادہ کرتی ہے۔جماعت پہلے سے بھی بڑھ کر دعاؤں اور ذکر الہی