سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 313
سم اسم حضرت اقدس خلیفہ المسیح الاول رضی الله عنه کی صاحبزادہ صاحب سے بلند توقعات اور کامل اعتماد حضرت خلیفہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں آپ نے اپنے محبوب اور مطالع امام سے جو کامل خلوص اور وفا کا تعلق رکھا، اس سے حضرت خلیفہ المسیح شیپوری طرح آگاہ تھے اور مخالفین کی ریشہ دوانیوں کے باوجود ایک لمحہ کے لئے بھی کبھی حضرت صاحبزادہ صاحب کے بارہ میں آپ کا دل میلا نہ ہوا بلکہ روز بروز آپ پر حضرت کا اعتماد بڑھتا رہا اور توقعات بلند تر ہوتی چلی گئیں۔جب حضور باہر تشریف لے جاتے تو بسا اوقات صاحبزادہ صاحب ہی کو امام الصلوۃ اور امیر مقامی مقرر فرماتے۔اسی طرح علالت طبع کی صورت میں بھی حضور حضرت صاحبزادہ صاحب کو امام الصلوة مقر فرمانے لگے۔اور کئی مرتبہ اپنی موجودگی میں بھی نماز جمعہ کی امامت کا ارشاد فرمایا حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں آپ نے پہلی دفعہ نماز جمعہ ۲۹ جولائی نشہ کو پڑھائی۔اور خطبہ جمعہ میں آپ نے آیت اِنَّ اللهَ يَا مُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ کی ایسی لطیف تفسیر بیان فرمائی کہ حضرت خلیفہ المسیح بہت ہی محفوظ مسرور ہوتے اور بڑے پیار سے فرمایا :- میاں صاحب نے لطیف سے لطیف خطبہ سُنایا۔وہ اور بھی الطف ނ ہو گا۔اگر تم اس پر غور کرو گے میں اس خطبہ کی بہت قدر کرتا ہوں کے اور یقینا کہتا ہوں کہ وہ خطبہ عجیب سے عجیب نکات اپنے اندر رکھتا ہے حضور رضی اللہ عنہ کا یہ اعتماد اور الطاف بعض بااثرہ اور بار سُورخ دوستوں کو بہو اپنے نتیں عالم فاضل اور معزز شمار کرتے تھے اور ظاہری علم اور عمر کے تفاوت کے باعث صاحبزادہ صاحب کو تخفیف کی نگاہ سے دیکھتے تھے ایک آنکھ نہ بھاتے تھے۔چنانچہ ایک مرتبہ حضرت خلیفہ المی کی علالت کے موقع پر حضرت صاحبزادہ صاحب کے امام الصلوۃ مقرر فرماتے جانے پر جناب مولوی محمد علی صاحب نے حافظ روشن علی صاحب سے کہا کہ آپ حضرت خلیفہ المسیح سے بے تکلف ہیں۔میرا نام لئے بغیر حضور سے عرض کریں کہ جماعت کے بڑے بڑے جید عالم موجود ہیں اُن کی موجودگی میں میاں صاحب کو امام مقرر کرنا مناسب نہیں۔اس پر بعض دوست اعتراض کرتے ن الحکم ۲۸ اکتوبر باشه