سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 293 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 293

۲۹۳ تھے کہ معلوم ہوتا تھا کہ تمام دعائیں قبول ہو رہی ہیں۔اور خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے دعائیں القا ہوتی تھیں جو پہلے کبھی وہم میں بھی نہ آئی تھیں۔فالحمد لله على ذلك۔۔۔دعاؤں سے رغبت اور دعاؤں کا اتقا اور رحمت الہی کے آثار جو میں نے اس سفر میں خصوصاً مکہ مکرمہ اور ایام حج میں دیکھتے ہیں، وہ میرے لئے بالکل ایک نیا تجربہ ہے اور میرے دل میں ایک جوش پیدا ہوا ہے کہ اگر انسان کو توفیق ہو تو وہ بار بار ج کرے کیونکہ بہت سی برکات کا موجب ہے یا نے ان خطوط کے علاوہ آپ کی بعد کی بعض تقاریر اور تحریرات میں بھی اس سفر کی کچھ یادیں محفوظ ملتی ہیں۔اُن میں سے بھی بعض نمونہ پیش ہیں :- " میں جب شاہ میں حج کے لئے گیا تو وہاں بھی ہمارے ساتھ ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔میرے ساتھ پانچ آدمی اور بھی ہم سفر تھے۔اُن میں سے تین بڑی عمر کے تھے اور وہ تینوں ہی بیرسٹری کر رہے تھے۔اُن میں سے ایک ہندو تھا جو اب ہندوستان چلا گیا ہے۔دو مسلمان تھے، جن میں سے ایک فوت ہو چکا ہے اور ایک ملتان میں بیرسٹری کر رہا ہے۔یہ تینوں روزانہ میرے ساتھ مذہبی اور سیاسی گفتگو کرتے تھے اور کہتے تھے کہ کانگرس کے ساتھ ملنا چاہیے، مسلمانوں کی بہتری اور بھلائی اسی میں ہے۔غرض خوب بخشیں ہوتی رہتی تھیں۔جب ہمارا جہاز عدن پہنچا تو ہم اُتر کے عدن کی سیر کے لئے پہلے گئے۔ہمیں بھی تھا اور وہ تینوں بیرسٹر بھی تھے اور وہ دولڑکے بھی تھے جن میں سے ایک اس وقت ایجو کیشن کا ڈائریکیٹر ہے اُس وقت وہ بچہ تھا۔بہر حال ہم سارے وہاں گئے۔جس وقت ہم شہر میں داخل ہونے لگے تو ایک آدمی بالکل سادہ لباس میں ہمارے پاس آیا۔اس وقت ہم پنجابی میں باتیں کر رہے تھے۔اس نے دیکھ لیا کہ پنجانی ہیں۔چنانچہ آتے ہی کہنے لگا " آگئے ساڈے لالہ لاجیت رائے جی دے وطن دے خوش قسمت لوگ آگئے۔اس نے اتنا فقرہ ہی کہا تھا کہ انہوں نے اس کو نہایت غلیظ گالیاں دینی شروع کر دیں۔مجھے بڑی بد تہذیبی معلوم ہوتی کہ اس بیچارے نے کہا ہے کہ تم وہاں سے آتے ہو اور انہوں نے گالیاں دینی شروع کر دی 37 کوکا ه بدر مادیان ۹ جنوری ۶۱۹۱۳ ما