سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 285 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 285

۲۸۵ سے گفتگو ہوتی آئی۔اور میں نے انہیں موجودہ حالات اسلام پر توجہ دلاتی اور بتایا کہ کس طرح مذہبی اور دنیا دی دونوں طور سے مسلمان گر رہے ہیں اور سیمی غلبہ پاتے جارہے ہیں۔اور پھر وفات مسیح کا مسئلہ اور حضرت صاحب کا دعوئی پیش کیا اور اتحاد کی ضرورت اور تعلق باہمی کے بڑھانے پر زور دیا۔قریبا تین گھنٹہ تک گفتگو ہوتی رہی اُن میں سے جو شخص محکمہ تار کا افسر تھا وہ عربی زبان کے علاوہ انگریزی فرانسیسی اور اٹلی کی زبانیں جانتا تھا۔خدا کے فضل سے ان پر الیسا اثر ہوا کہ ان سب نے قریباً مجھ سے میرا یہ لکھوالیا اور اس شخص نے جو کئی زبانیں جانتا تھا وعدہ کیا کہ میں ان سب خیالات کو اخبار العلم میں جو یہاں کا روزانہ اخبار ہے، شائع کروں گا اور آپ سے ان باتوں کی نسبت آئندہ خط و کتابت کرتا رہوں گا۔پھر وہ میرے ساتھ سب اسباب لایا اور ایک لوکندہ تک لا کے اطمینان کر کے کہ اب کوئی تکلیف نہ ہو گی پھر اپنے کام کو گیا اور نہ سویز میں ہمیں بہت تکلیف ہوتی یہ خدا ہی کا فضل ہے اس نے بھی اپنے دوسرے ساتھی سے جو ریل کا انسپکٹر تھا فیصلہ کیا کہ ہم آئندہ اس قسم کی انجمن قائم کریں جس کی غرض اشاعت اسلام اور اتحاد بین المسلمین ہو۔میری طبیعت برابر کمز در ہو رہی ہے آج اس قدر سر درد تھی کہ دن کو سونا پڑا جس سے طبیعت پر اور بھی بداثر پڑا۔آج رات میں نے خواب میں دیکھا کہ والدہ ناصر کچھ بیمار ہیں جیسے سیل کی ابتدا ہوتی ہے۔ان کی والدہ کو چونکہ ایک دفعہ یہ مرض ہو چکی ہے مجھے ہمیشہ خطرہ رہتا ہے نہ معلوم خواب کی کیا تعبیر ہے لیکن حضور دعا فرمائیں۔عورتوں کو خاوندوں کی جدائی کا بھی ایک صدمہ ہوتا ہے۔اور اس سے جسمانی بیماریوں کا بھی ایک خطرہ ہوتا ہے۔دُعا کی سخت ضرورت ہے حضور کی دُعا سے اس وقت تک ہر جگہ اللہ تعالی با اخلاق لوگوں سے ہی پالا ڈالتا رہا ہے۔عرب صاحب بھی تبلیغ میں مصروف رہتے ہیں۔والسلام خاکسار - مرزا محمود احمد از سویز مرزام۔۔۱۹۱۲ دوسرا خط جو جدہ پہنچ کر ۱۲ نومبر ۱۹ ء کو لکھا سیدی و آقائی و استاذی السلام علیکم ! کل بتاریخ یکم اکتوبر (غالباً نومبرہے کیونکہ جدہ کی مہر اور نومبر کی ہے۔ایڈیٹر اللہ علی