سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 284
نم ۲۸ حضرت صاحبزادہ صاحب کی دعاؤں سے آپ کی سیرت کا پتہ لگے گا۔ان خطوط پر میں ہیں پر وقت اور کوئی ریمارک نہیں کرتا۔شوق محبت بہت کچھ لکھوانا چاہتی ہے۔اور اشاعت کی عجلت قلم روکنے پر مجبور کرتی ہے۔اس لئے اصل خطوط کو ذیل میں درج کرتا ہوں اور درخواست کرتا ہوں کہ احباب اپنے اولو العزم مخدوم کے لئے بیش از پیش دُعائیں کریں جو ان کے لئے خدا تعالیٰ کے فضل کے مقامات میں بھی دعائیں کر رہا ہے۔عجیب بات ناظرین کو یہ معلوم ہوگی کہ ایک طرف حضرت خلیفہ المسیح ایده الله بنصرہ نے صاحبزادہ صاحب کو حج سے دار الامان والیس آنے کا خط لکھا دوسری طرف خدا تعالٰی نے ایسے سامان پیدا کر دیتے کہ وہ جنوری یا فروری میں واپس آجائیں اللہ تعالیٰ اُن کا حامی و ناصر ہو۔۔۔۔ایڈیٹر پہلا خط جو سویز سے دیار محبوب کو جاتے ہوئے لکھا۔سیدنا و امامنا السلام علیکم ! کل سویز خدا کے فضل سے آگئے اور خواب جو میں نے لکھی تھی اس کی تصدیق بھی ہوگی کیونکہ جو جہاز آن پی کو جانا تھا اس میں جگہ نہیں مل سکی اور وہی جواب ملا کہ ٹکٹ اس جہاز کے ختم ہو چکے ہیں، کسی اگلے جہاز پر جگہ بنادی جائے گی۔ایک جهاز کل منگل کو انتیس اکتوبر کو جانا ہے۔اس کے ٹکٹ کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔لیکن بہت مشکل معلوم ہوتا ہے کیونکہ ہزار ہا حاجی یہاں ہم سے پہلے آیا پڑا ہے آجکل مصر سے حجاج کے لئے روزانہ ایک دو جہاز روانہ ہوتے ہیں اور آخری جہاز وہ ہے جس پر پہلے جانے کا ارادہ کیا تھا اور اگر اسی پر آتے تو اغلب تھا کہ رہ جاتے اب بھی کہ ایک ہفتہ پہلے آگئے ہیں جگہ ملنے کی دقت ہو رہی ہے۔مصر سے الہیر ہزار حاجی کے لئے ٹکٹ شائع ہو چکا۔۔۔کل پورٹ سعید سے سویز آتے ہوئے سیکنڈ کلاس میں پانچ آدمی میرے ساتھ ہو اور سوار تھے۔ایک تو کوئی یورپین تھا اور چار مسلمان - دو بدوی روسا تھے غالباً نہ مصر کے اور ایک محکمہ تار کا کوئی افسر تھا اور ایک ریلوے کا انسپکٹر۔اُن جنوبی حصہ