سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 212 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 212

۲۱۲ کام لیتے ہیں۔مجھ سے تو اس معاملہ پر اگر کسی دوست نے گفتگو کرنی چاہی تو ہمیشہ میں نے یہی کہہ کر ٹال دیا کہ کیا یہ لوگ جانتے ہیں کہ میں کب تک زندہ رہوں گا۔مگر افسوس کہ ظلم میں کمی آنے کے بجائے وہ اور ترقی کرتا گیا۔یعنی کہ اب وہ اپنے کمال پر پہنچ گیا ہے اور خدا چاھے تو شاید وقت آگیا ہے کہ اہے وہ پھر زوال کی طرف رخ کر ہے۔اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ شاید اس شور کا اثر ایک میرے پیارے کے دل پر نہ پڑے تو میں شاید اب بھی جواب کی طرف متوجہ نہ ہوتا مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ قوم کو ہلا کتے سے بچانے کے لئے کچھ کہنا ضروری ہے۔میرے باپے پر جین قد الزام لگائے گئے تھے یہ الزام اُن کے عشر عشیر بھی نہیں۔لیکن وہ خدا کے مامور تھے اور اُن سے جو خدا کے وعدے تھے وہ مجھ سے نہیں۔اس نے میرا ان پر کڑھنا تعجب کی بات نہیں افسوس میں نے اپنے دوستوں سے وہ سُنا جو یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے نہ سُنا تھا۔میرا دل حسرت و اندن کا مخزن ہے اور میں حیران ہوں کہ میں کیوں اس قدر مورد عتاب ہوں۔بے شک ن بھی ہوتے ہیں جو غم و راحت میں اپنی عمر گزارتے ہیں۔مگر یمان تو چھاتی قفس میں داغ سے اپنی ہے رشک باغ a جوش بہار تھا کہ ہم آئے اسیر ہو اگر میں تبلیغ دین کے لئے کبھی باہر نکلتا ہوں تو کہا جاتا ہے کہ لوگوں کو پھسلانے کے لئے اپنی شہرت کے لئے اپنا اثر در سو خو پیدا کرنے کے لئے اپنی حمائتیں بنانے کے لئے نکلتا ہے۔اور اس کا باہر نکلت اپنی نفسانی اغراض کے لئے ہے۔اور اگر میں اس اعتراض کو دیکھ کر اپنے گھر بیٹھ جاتا ہوں تو یہ الزام دیا جاتا ھے کہ یہ دین کی خدمت میں کوتا ہی کرتا ھے اور اپنے وقت کو ضائع کرتا ہے اور خالی بیٹھا دین