سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 13 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 13

ان اقوام کے ہاتھ میں ہے جو آسمانی ابوت اور انسانی اخوت کی مسیحی تعلیم پر ایمان رکھتے ہوئے یسوع مسیح کو اپنا نجات دہندہ) تسلیم کرتی ہیں۔' اسی لیکچر میں آگے چل کر انہوں نے ایک برطانوی ادیب کے حوالہ سے عیسائیت کے غلبہ واستيلة کا نقشه نهایت درجه فخر به انداز اور تعلمی آمیز الفاظ میں کھینچتے ہوئے کہا :- دنیا تے عیسائیت کا عروج اس درجہ زندہ حقیقت کی صورت اختیار کر چکا ہے کہ ایسا درجہ عروج اسے اس سے پہلے کبھی نصیب نہ ہوا تھا۔ذرا ہماری ملکہ عالیہ (ملکہ وکٹوریہ ) کو دیکھو جو ایک ایسی سلطنت کی سربراہ ہے جس پر کی کبھی سورج غروب نہیں ہوتا۔دیکھو وہ ناصرہ کے مصلوب کی خانقاہ پر کمال درجه تا بعداری سے احتراما جھکتی اور خراج عقیدت پیش کرتی ہے ! یا پھر گاؤں کے گرجا میں جا کر نظر دوڑ او اور دیکھو کہ وہ سیاسی مدیر (وزیر اعظم برطانیہ) جس کے ہاتھوں میں ایک عالمگیر سلطنت اور اس کی قسمت کی باگ ڈور ہے۔جب یسوع مسیح کے نام پر دعا کرتا ہے تو کیسی عاجزیی اور انکساری سے اپنا سر جھکاتا ہے ! دیکھو جرمنی کے نوجوان قیصر کو جب وہ خود اپنے لوگوں کے لئے بطور پادری فرائض سرانجام دیتا اور یسوع مسیح کے مذہب یعنی دین عیسائیت سے اپنی وفاداری کا اظہار کرتا ہے۔مشرقی انداز پر ماسکو کے شاہانہ ٹھاٹھ بات میں زارہ روس کو دیکھو کہ تاج پوشی کے وقت ابنِ آدم کے طشت میں رکھ کر اسے تاج پیش کیا جاتا ہے۔یا پھر مغربی جمہوریت (امریکہ) کے ایک صدر کے بعد دوسرے صدر کو دیکھو کہ ان میں سے ہر ایک عبادت کے نسبتاً سادہ لیکن عمیق اسلوب میں ہمارے خداوند کے ساتھ اپنی وفاداری اور تابعداری کا اظہار کرتا چلا جاتا ہے۔امریکی، برطانوی جرمن اور روسی سلطنتوں کے حکمران اقرار کرتے ہیں ، کیا ان سب کے زیر نگیں علاقے مل کر ایک ایسی وسیع و عریض سلطنت کی حیثیت نہیں رکھتے کہ جس کے آگے ازمنہ قدیم کی بڑی سے بڑی سلطنت 19 له پیروز لیکچرز من