سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 12
ایسی حالت کی طرف رخ کر لیا ہے اور پیچھے ہوں ہی ہوتا آیا ہے اور تعلیمات کے نتائج یہی ہیں۔“ ہے ہندوستان میں جو عیسائیت کو کامیابی حاصل ہو رہی تھی اس کی ایک ادنی سی جھلک پنجاب کے لیفٹینٹ گورنر چارلس ایچی سن کی ایک تقریر میں پائی جاتی ہے جو انہوں نے شاہ میں کی تھی۔انہوں نے کہا :- بعض ایسے لوگوں کو جنہیں اس طرف توجہ کرنے کا موقعہ نہیں ملا یہ سُن کر تعجب ہو گا کہ جس رفتار سے ہندوستان کی معمولی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے اس سے چار پانچ گنا زیادہ تیز رفتار سے عیسائیت اس ملک میں پھیل رہی ہے اور اس وقت ہندوستانی عیسائیوں کی تعداد دس لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اس عظیم الشان امر کا سبب کہ ہر جگہ عیسائیوں کی جماعت ایسی تیز رفتاری سے پھیل رہی ہے کہ جتنی قرونِ اولیٰ کے بعد کبھی نہیں پھیلی۔میں اور آپ اس کا حقیقی سبب جانتے ہیں۔وہ یہ ہے کہ خدا وند کی روح حرکت میں ہے۔پہلے کی طرح اب بھی خداوند اپنے نام کو عظمت دے رہا ہے اور وہ ہمارے چرچ کو اُن لوگوں سے وسعت دے رہا ہے جو نجات چاہتے ہیں۔انجیل کے پیغام کی قدیم طاقت ابھی تک موجود ہے۔اب بھی رسولوں کے زمانہ کی طرح خدا کا کلام زیر دست نشود نما تے کی طاقت رکھتا ہے اور اس کا غلبہ ہو رہا ہے" امریکہ سے مشہور عیسائی مناد ڈاکٹر جان ہنری بیروز کو ہندوستان بلوایا گیا۔وہ انگریزی زبان کے بڑے فصیح البیان مقرر تھے۔انہوں نے شملہ میں برصغیر کا طوفانی دورہ کر کے جگہ جگہ لیکچر دیتے اور ان لیکچروں میں عیسائیت کے عالمگیر غلبہ کا وہ ڈھنڈورا پیٹا کہ آسمان سر پر اٹھا لیا۔انہوں نے اپنے ایک لیکچر میں عیسائیت کے غلبہ واستیلاء کا ذکر کرتے ہوئے بڑے طمطراق سے اعلان کیا :- " آسمانی بادشاہت پورے کرہ ارض پر محیط ہوتی جارہی ہے۔آج دنیا بھر میں اخلاقی اور فوجی طاقت، علم و فضل صنعت و حرفت اور تمام تر تجارت سے خط شکاگو - مرقومه پادری عماد الدین لا ینز در ضروری نشده مطبوعہ نیشنل پریس امرتسر شهداء له دی مشنر مصنفہ آن کلارک، مطبوعہ لندن ص ۲۳۲