سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 11
غیر مذاہب پر عیسائیت کی عالمگیر بلغار اور اس کے خطرناک نتائج پادری عماد الدین صاحب جو کبھی اجمیر شریف کی جامع مسجد کے خطیب ہوا کرتے تھے اسلام سے انحراف کر کے عیسائی ہو گئے اور اسلام کے خلاف اس درجہ ان کا بغض بڑھا کہ بعد کی ساری زندگی اسلام کے خلاف جدو جہد کے لئے وقف ہو گئی اور عیسائیت کے صف اول کے مجاہدین میں ان کا شمار ہونے لگا۔غیر مذاہب پر عیسائیت کی پے در پئے فتوحات کے نتیجہ میں عیسائی پادریوں کا فاتحانہ انداز فکر اُن کی حسب ذیل تحریر کے لفظ لفظ سے عیاں ہے :- نتشار میں جب دلیم کیری صاحب نے آکے ملک بنگال کے ایک حصہ میں کام شروع کیا، اس وقت سے بہت آہستہ آہستہ مسیحی دین کا چرچا تمام ملک ہندوستان میں پھیلا ہے اور پنجاب میں قریب ۴۵ برس سے خدا کا دین آیا ہے۔جس وقت کبیری صاحب آئے اس وقت ملک کی ایسی حالت تھی کہ کوئی دنیا دی سمجھ کا آدمی نہ کہ سکتا تھا کہ مسیح کا دین اس ملک میں۔پھیلے گا کیونکہ اس وقت کے محمدی اور ہندو اپنے اپنے مذاہب میں بڑے مضبوط اور سرگرم اور تعصب و سختی و نا واقعی سے بھر پور ہو کے ہوا سے باتیں کرتے تھے۔ہاں اس وقت کیری صاحب کا مسیحی ایمان گواہی دیتا تھا کہ خدا کا دین اس ملک کو بھی ضرور فتح کرے گا جیسا کہ وہ پیچھے سے فتح مند ہو تا چلا آیا ہے۔اسی طرح اب ہم مسیحی بھی خدا پر یقین اور بھروسہ کر کے کہتے ہیں کہ کسی وقت یہ ملک ملک انگلستان کی مانند ہونیوالا ہے۔ہمارے مخالف ہندو و مسلمان و دیانندی و نیچری و غیره اگر چہ کیسا ہی زور دکھلا دیں اور زبان درازیاں کریں، وقت چلا آتا ہے کہ پتہ ندارد ہوں گے۔صرف مسیحی دینداری یہاں ہوگی یا شرارت نفسانی کے لوگ ملیں گے کیونکہ ملک ملک نے اب