سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 160
14- گھروں کو اجاڑا گیا اور کبھی ماں باپ بہن بھائیوں سے جُدا کر کے یکہ و تنہا اس دنیا کی تلخیاں سہنے کے لئے چھوڑ دیا گیا۔بارہا ان کو زدوکوب بھی کیا گیا اور دردناک جسمانی اذیتیں بھی پہنچائی گئیں اوربسا اوقات انہیں قتل یا سنگسار کر کے احمدیت کو نابود اور اپنے بغض و حسد کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی گئی حضرت مرزا صاحب کے جلسوں پر پتھراؤ کیا گیا اور انہیں ناکام بنانے کے لئے انجان عوام الناس کو غول در غول بھیجوایا گیا جو شور و غوغا کر کے حضرت مرزا صاحب کو گالیاں دے کر اور چھاتیاں پیٹ کر مرزا ہائے ہائے کے نعرے لگاتے ہوئے حاضرین جلسہ کو سماعت سے محروم رکھتے یا مرعوب کر کے منتشر کرنے کی کوشش کیا کرتے۔فنادی کفر کا یہ عالم تھا کہ صرف ایک مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا فتوئی ہی ڈیڑھ سو صفحات پر مشتمل گالیوں کا ایک مرفع تھا۔ہندوستان کا شاید ہی کوئی مشہور شہر یا قصبہ ایسارہ گیا ہو جس کے علماء نے اس مغلظات سے پر فتوی کفر و الحادیر اپنے دستخط کر کے مُہر تصدیق ثبت نہ کی ہو۔اس مخالفت کی کہانی طویل اور افسوسناک ہے۔مختصر یہ کہ مخالفین کی غوغا آرائی اور شور و شر نے ہندوستان کی مذہبی فضا میں ایک تہلکہ مچارکھا تھا۔انفرادی طور پر بھی آپ کے قتل کی کوششیں کی گئیں۔عدالت کے دروازے کھٹکھٹا کر آپ کو بحیثیت ایک قاتل سزا دلوانے کی کوشش بھی کی گئی اور حکومت وقت کو بھی آپ سے بدظن کرنے کی خاطر آپ کو ایک خونی مہدی اور باغی سردار کے طور پہ پیش کیا گیا۔یہاں تک کہ آپ کو ہلاک کرنے کی یہ کوششیں دنیاوی ذرائع کی حد تک ہی محدود نہ رہیں بلکہ عرش کے خدا کو بھی اپنی مدد کے لئے بلایا گیا۔پس شیم فلک نے یہ عجیب نظارہ دیکھا کہ ایک طرف مسلمان علماء آپ پر تعنتیں بھیجتے اور سجدہ گاہوں پر یہ پیشانیاں رگڑتے ہوئے اپنے رب سے یہ التجا کر رہے تھے کہ اے خدا ! اس دشمن دین کو ہماری آنکھوں کے سامنے بلاک کر کے اس کے نام ونشان تک کو اس دنیا سے مٹا دے اور ہمیں دل اور آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب فرما تو دوسری طرف بڑے بڑے عیسائی جبہ پوش پادری اس مزعومہ دشمن دین کی ہلاکت کے لئے ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔پھر ان دُعا کرنے والوں کی صف میں پنڈت لیکھرام اور اس کے چیلے چائے بھی بھجن گاتے ہوتے شریک تھے۔بلکہ یہ اعلان بھی کر رہے تھے کہ پر ہاتما نے مرزا قادیانی کی ہلاکت آسمان پر لکھ دی ہے اور یہ خود اور اس کی تمام اولاد ہماری آنکھوں کے سامنے رسوا اور ذلیل اور ہلاک اور نابود ہو جائے گی یہاں تک کہ قادیان کی بستی میں بھی کوئی ان کا نام جاننے والا باقی نہ رہے گا۔لے تفصیل کے لئے دیکھیں تاریخ احمدیت جلد دوم ص ۱۹۴ "۔۔