سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 159
۱۵۹ تک محدود نہیں تھی بلکہ غیر مسلموں کے معاہد میں سے بھی بہت سے مندر اور کلیسا آپ کے خلاف سازشوں کی آماجگاہ بنے ہوتے تھے۔کلیسا اور آریہ سماج کے اکثر ذہبی راہنما اس مخالفت میں پیش پیش تھے۔چنانچہ ان تین شدید معاندانہ قوتوں نے آپ کے خلاف ہر سمت سے یلغار کر دی۔یہاں یہ اظہار تعجب ہے جانہ ہوگا کہ ہندوستان کی تاریخ میں یہ پہلا انوکھا اور حیران کن واقعہ تھا کہ تین قومین جو باہم شدید مذهبی عناد رکھتی تھیں یعنی بند و عیسائی اور مسلمان کسی مد مقابل سے مشترک مذہبی عناد کی بناء پر باہم متحد ہوتے ہوں۔پس حضرت مرزا صاحب کی دشمنی نے یہ عجیب معجزہ بھی دنیا کو دکھایا کہ کیا عیسائی اور کیا آریہ اور کیا دوسرے مذہبی رہنما بھائیوں کی طرح باہم شیر و شکر ہو کر حضرت مرزا صاحب کو ہلاک کرنے کے منصوبے بنانے لگے اور ایک متحدہ طاقت کے ساتھ آپ کو نیست و نابود کرنے کے درپے ہوئے۔اگرچہ یہ جنگ مذہب کے نام پر لڑی جارہی تھی لیکن یہ امر بھی بڑا تعجب انگیز ہے کہ حضرت مرزا صاحب کے ان مذہبی معاندین کے نزیک کوئی اخلاقی ضابطہ حیات درخور اعتناہ نہ تھا۔اس مخالفت میں انہوں نے ہر حربہ کو جائز سمجھا، ہر غلط اقدام کو راست جانا اور ہر بد خلقی پر جسارت کی اور سر بے باکی کو درست تصویر کیا۔غرضیکہ اخلاقی اور مذہبی قیود سے کلیتہ آزاد یہ ایک انوکھی جنگ مقدس تھی جو انوکھے انداز میں ٹری گئی۔اس مقدس جنگ میں حضرت مرزا صاحب کے خلاف ہر طرح کا جھوٹ اور بہتان اور لاف زنی ، حق کی خدمت منتصور ہو رہے تھے گویا جھوٹ کے کاندھوں پر بٹھا کر سچائی کا بول بالا کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔اسی طرح حضرت مرزا صاحب کے خلاف جھوٹے مقدمے گھڑ کر اور جھوٹے گواہ پیش کر کے بزم خود انصاف کو قائم کیا جارہا تھا۔شرافت اور نجابت کی اقدار کی حفاظت کے نام پر آپ کے خلاف ہر قسم کی مغلظات کا استعمال نہ صرف جائز بلکہ مستحسن شمار کیا جاتا تھا۔حتی کہ آپ کو قتل کرنے کی ترغیب کھلم کھلا محراب و منبر سے یہ بتا کر دی جاتی تھی کہ آپ کا قاتل اگر مارا گیا تو بلا روک ٹوک اور بلا تکلف سیدھا جنت الفردوس میں جائے گا۔علاوہ ازیں ایذارسانی کے دوسرے تمام ممکنہ ذرائع بھی آپ کے خلاف استعمال کئے گئے۔آپ کے متبعین کو کبھی سوسائٹی سے خارج کر کے اچھوتوں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا اور بھی اُن کے اموال و اسباب ٹوٹ کر فقیرانہ حالت میں گھروں سے بے گھر اور وطنوں سے بے وطن کر کے خالی ہاتھ اس کارگاہ عالم میں دھکیل دیا گیا۔پھر کبھی اُن کی بیویوں کو اُن پر حرام قرار دے کر رستے بستے -