سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 141
۱۴۱ نہیں سنی کیونکہ جہاں یہ سب مل کر بیٹھتے ہیں ضرور جا پہنچتی تھی کئی بار سنس کر فرماتے تھے کہ لڑکی وہ جو لڑکیوں میں کھیلے نہ کہ لڑکوں میں ڈنٹرپیلے مجھ سے بچپن سے بے تکلف رہے۔ہر بات مجھ سے کر لیتے اور میں ہربات جو نئی سُنی یا مجھ سے باہر ہوتی اُن سے پوچھتی۔میری کھل کر بات یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہوتی تھی یا بڑے بھائی حضرت مصلح موعود سے حضرت مسیح موعود بھی جانتے تھے کہ ہم دونوں کا آپس میں زیادہ پیار اور بے تکلفی ہے تو آپ نے بھی تین چارہ بار کہا محمود کچھ چُپ چُپ ہے کبھی حاجت نہیں ظاہر کرتا نہ مانگتا ہے تم پوچھو تو سہی کہ کیا چاہتے ہیں نے پوچھا اور آپ نے بتا دیا۔یہ میں لکھ چکی ہوں پہلے کبھی۔ایک بار بخاری کی جلدوں کا پورا سیٹ منگانے کیلئے کہا تھا۔ایک بار سول اخبار جاری کر دینے کو ایک دفعہ بھائی جان کو لاہور گئے زیادہ دن ہو گئے تھے ، کہا ہمیں اُن کا لاہورہ زیادہ رہنا پسند نہیں کرتا بلوالیں۔ہم لوگ لڑتے نہیں تھے کم از کم بہنوں سے لڑنے کی تو قسم ہی ہمارے ہاں تھی۔مبارک احمد اور میں چھوٹے تھے تینوں بھائیوں نے کبھی کچھ نہیں کہا۔آپس میں منجھلے بھائی کبھی تکیوں سے لڑائی گویا مصنوعی جنگ کیا کرتے تھے یا چھوٹے بھائی صاحب کو منجھلے بھائی صاحب پڑاتے تھے وہ چڑتے مگر اس سے زیادہ ہرگز نہیں۔نہ مار نہ کٹائی۔ایک بار کوڑا چھپا کی کھیلتے ہوئے مبارک کی پیٹھ پر کوڑا زور سے مار دیا وہ نازک سا بچہ تھار رہنے لگا مجھے آج تک افسوس ہے اپنی اس حرکت کا کہ میں نے پکار کر حضرت مسیح موعود کو کہا کہ مبارک کو چھوٹے بھائی نے زور سے کوڑا مار دیا۔تو آپ چھوٹے بھائی پر بہت خفا ہوتے تھے۔مگر میں نے تو بڑے بھائی کو حقیقت مسیح موعود علیه السلام کی مانند محبت کرنے والا پایا۔ذرا بڑے ہو کر یہ محبت ایک دوستی کا رنگ بھی اختیار کر گئی۔