سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 129
۱۲۹ ایسے اور عموماً ایسے واقعات بیان کرتے ہوئے وہ اس بات پر ختم کرتے ہیں کہ اس وقت خوف کے مارے ہماری جان نکل گئی یا ٹانگیں کانپنے لگیں یا سر پر پاؤں رکھ کر بھاگنے لگے یا ہم نے دُعا کی کہ اے الله ! اب تو ہی بچانے والا ہے وغیرہ وغیرہ۔لیکن حضرت صاحبزادہ صاحب کا رد عمل بالکل الگ ہے اور طبیعت پر غالب اور دیر پا اثر جس چیز نے کیا وہ ایک نفسیاتی مسئلہ تھا۔آپ کے ذہن کا رد عمل ایک فلسفی کا سا ہے جو مثلاً تاریخ کے اُلجھے ہوئے واقعات کو سلجھانے کی کوشش کر رہا ہے۔آپ کو اس واقعہ سے شدید تعجب اس بات پر ہوا کہ ایک طرف سادہ فطرت کا معصوم تقاضا ہے جس کے پیش نظر سادہ لوح سکھ جوان اور بچے آپ کے ساتھ مل کر شکار کا طبعی لطف اٹھا رہے ہیں۔دوسری طرف ایک مذہبی تعصب سے پیدا شدہ انگیخت ہے جس کے نتیجہ میں اچانک ان کا رجحان تبدیل ہو کر اُن کا تعصب فطری شوق پر غالب آجاتا ہے۔یہ سب کچھ کیوں ہوا ؟ اور کس حد تک درست اور کس حد تک غلط تھا ؟ یہ فکر آپ پر ایسی غالب آئی کہ اس وقت ہی نہیں بلکہ بعد ازاں بھی سالہا سال اس پر غور کرتے رہے اور یہ واقعہ اپنے اسی نمایاں پہلو کی وجہ سے آپ کو یا د رہا۔آپ کے یہ الفاظ آپ کی دیر یہ عادت فکر کے آئینہ دار ہیں : اس وقت تو میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی تھی اور میں بڑا تعجب کرتا تھا اور بہت سوچتا تھا مگر کچھ سمجھ نہ آتی تھی۔آخر خُدا کے فضل سے وہ بات حل ہو گئی اور میں سمجھ گیا کہ اس کے اندر کیا حقیقت تھی ؟۔۔۔" آپ کا نشانہ بچپن ہی سے بہت اچھا تھا۔حکیم دین محمد صاحب جو آپ کے بچپن کے ساتھ کھیلے ہوتے ہیں بیان کرتے ہیں :- ایر گن کا نشانہ آپ کا بڑا ہی صحیح تھا۔چنانچہ اس حد تک تھا کہ زنبور جو ام پر بیٹھے ہوتے تھے۔آپ ایک ایک کو نشانہ بنا کر گرا دیتے تھے۔اکثر چھوٹی چڑیوں اور فاختہ کا شکار کرتے ہم آپ کے ساتھ ہوتے، اور ذبح کرتے جاتے۔بڑے ہو کر آپ کے پاس بندوقیں تھیں اور سب احباب کو معلوم ہے پھیر دیچی میں جا کر دریائے بیاس پر مرغابی کا شکار کیا کرتے تھے" سے شکار کے دوران کئی رنگ میں آپ کی تربیت ہوتی رہی۔بہت حد تک تو اس وجہ سے کہ آپ کا لے پھر سے مستورہ روایات حضرت حکیم دین محمد صاحب دار الرحمت وسطی - ریوه