سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 121 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 121

پاکے مخالف تھے نہ عیسائی۔آپ کے مخالف صرف مکہ کے مشرکیہ تھے۔۔۔اس میں کیا راز اور کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مشترکین کا تو ذکر نہ کیا جن کی مخالفت کا مکہ میں شدید زور تھا اور یہود و نصاریٰ کا ذکر کر دیا۔جو وہاں آٹے میں نمک کے برابر تھے۔اس میں یہ راز ہے کہ قرآن کریم کا نازل کرنے والا عالم الغیب خدا جانتا تھا کہ اس کی تقدیر کے ماتحت مکہ کا مذہب ہمیشہ کے لئے تباہ کر دیا جانے والا تھا۔اور آئندہ۔۔۔اس کا نام دنشان تک نہ ملنا تھا۔پس جو مذہب ہی مٹ جانے والا تھا ، اس سے بیچنے کی دعا سکھانے کی ضرورت ہی نہ تھی۔جو مذاہب بیچ رہے تھے اور جن سے رُوحانی یا مادی رنگ میں اسلام کا ٹکراؤ ہوتا تھا ، ان کے بارہ تھا میں دعا سکھا دی گئی ہے ابتدائی تقاریر میں سب سے اہم اور قابل ذکر موقع اس آخری جلسہ سالانہ کا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال سے ڈیڑھ سال قبل دسمبر میں منعقد ہوا۔اس موقع پر سلسلہ کے چوٹی کے علما اور اکابرین کے علاوہ بیرونی جماعتوں سے کافی تعداد میں مرد عور تیں اور بچے تشریف لائے ہوئے تھے۔پبلک اجتماع سے آپ کا یہ پہلا خطاب تھا اور موقع کی اہمیت کے پیش نظر آپ پر جو اندرونی ہیجان اور گھبراہٹ کی کیفیت طاری تھی اس کے باوجود آپ کی تقریر غیر معمولی طور پر کامیاب ہوتی اور سورۃ لقمان کے دوسرے رکوع کی جو تفسیر آپ نے بیان فرمائی اس میں قرآن کریم کے ایسے نئے معارف اور لطیف نکات بیان ہوتے کہ یہ تفسیر زبان زد عام ہوگئی اور حیرت و استعجاب سے انگلیاں اٹھنے لگیں کہ یہ نوجوان قرآنی معارف کو سمجھنے میں بڑے بڑے اکابرین پر بازی لے گیا ہے۔چنانچہ یہ تقریر اسی زمانہ میں اخبار" البدرہ قادیان میں شائع ہو گئی اور آج بھی اس کا مطالعہ انسان کو ایک عجیب روحانی سُرور عطا کرتا ہے۔خود حضرت مرزا محمود احمد رضی اللہ عنہ پر اس تقریر کے دوران جو کیفیت طاری تھی وہ آپ ہی کی زبانی سننے کے لائق ہے۔آپ فرماتے ہیں :۔سب سے پہلی تقریر جو میں نے عام جلسہ میں کی۔اس رکوع کو پڑھ کر اس مسجد میں کی تھی۔اب مسجد وسیع ہو گئی ہے اور اس کی پہلی شکل ے تفسیر کبیر سورۃ کوثر ص ۴۷۶ - ۴۷۷ کی کام