سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 120
جب استاد کا طالب علم سے اس قسم کا رویہ ہو تو بسا اوقات استاد کے نیک ارادوں کی طرف طبیعت مائل ہونے کی بجائے اس کے سلوک کی ظاہری تلخی زیادہ شدت سے محسوس ہونے لگتی ہے اور اکثر طلبا کار و عمل ایسی صورت میں یا تو استاد اور تعلیم سے متنفر ہو جانے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے یا پھر ایسے طلبا آندرونی طور پر مر جھا جاتے ہیں اور کوئی ذوق و شوق باقی نہیں رہتا۔اس کے برعکس بعض طلبا کو اللہ تعالیٰ نے ایسی فطرت عطا فرمائی ہوتی ہے کہ اُن پر استاد کا یہ سلوک تازیانہ کا کام کرتا ہے اور اس چیلنج کو مردانہ وار قبول کرتے ہوئے وہ اپنی کمزوریوں کو دُور کرنے اور اپنی قابلیتوں کو پہلے سے بڑھ کر اُجاگر کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔حضرت مرزا محمود احمد صاحب پر موخر الذکر و دعمل ہوا اور اسی کی حضرت خلیفہ اول کو آپ سے توقع تھی۔اس کے نتیجہ میں آپ کی تقریر وتحریر کو کیا نئی رفعتیں عطا ہوئیں، اس مضمون کے بیان کا موقع آپ کی زندگی کے بعد کے حالات میں جا بجا پیدا ہوتا رہے گا۔اس دور میں جس پر ہم نظر ڈال رہے ہیں یعنی آپ کی پیدائش سے لے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے وصال تک کا دور اس میں آپ کو مشق کے علاوہ بھی بعض اوقات تقریر کرنی پڑی ندہ میں تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کا امرتسر خالصہ کالج سے فٹ بال کا مینج ہوا تھا۔جس میں اللہ تعالٰی کے فضل سے تعلیم الاسلام ہائی سکول کی ٹیم کامیاب رہی۔صاحبزادہ صاحب موصوف بھی ٹیم کے ساتھ امرتسر گئے تھے۔میچ کے بعد ایک مختصر سی تقریب مسترت منعقد ہوئی جس میں شہر کے بعض روستا شامل تھے۔پارٹی کے بعد صاجزادہ صاحب سے خواہش کی گئی کہ آپ حاضرین سے خطاب فرما دیں۔آپ نے اس سے پہلے اس قسم کے مجمع میں جس میں معزز غیر احمدی بھی بکثرت شامل ہوں کبھی پبلک تقریر نہیں کی تھی۔اس لئے آپ نے عذر کیا اور کہا کہ میں تیار نہیں ہوں۔لیکن حاضرین کے اصرار پر آپ دل میں دعا کرتے ہوئے کھڑے ہوئے اور پہلے تجربہ کے باوجود بڑی موثر تقریر کی اور ایسے نئے نکات بیان کئے کہ ایک نوخیز طالب علم کی زبان سے معرفت کی ایسی باتیں سن کر سبھی حیران رہ گئے۔آپ نے فرمایا : "خدا تعالیٰ سورۃ فاتحہ میں ایک دعا سکھاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اے خدا ہم نہ مغضوب نہیں اور نہ ضائل نہیں۔احادیث سے ثابت ہے کہ مغضوب علیہم سے مراد یہودی اور ضالین سے مراد انصاری ہیں۔۔۔دوسری طرف اس بات پر تمام لوگوں کا اتفاق ہے کہ یہ سورۃ مکہ میں نازل ہوتی ہے۔اب یہ ایک عجیب بات ہے کہ جب یہ سورۃ نازل ہوئی تھی اس وقت نہ یہودی