سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 119
۱۱۹ بشیر الدین محمود احمد صاحب فرماتے ہیں :- "ہم نے ایک دفعہ ایک انجمن بنائی جس میں تقریریں کرنے کی مشق کی جاتی تھی اور اعلیٰ درجہ کی تقریر کرنے والوں کو انعام دیتے جاتے تھے۔میں اس میں جب بھی تقریر کرتا ، حضرت خلیفہ المسیح الاول اس پر ہمیشہ جرح اور نکتہ چینی کرتے۔کچھ مدت تک اسی طرح ہوتا رہا۔میرے نفس نے دھوکا دیا اور میں نے خیال کیا کہ مولوی صاحب مجھ پر حد سے زیادہ سختی کرتے ہیں ہیں نے ایک مضمون لکھا اور اپنے ایک سکول فیلو ( ہم کتب کو جو تقریریز نا نہیں جانتا تھا پڑھنے کے لیئے دیا۔جب اس نے مضمون پڑھا تو حضرت مولوی صاب نے اس کی از حد تعریف کی۔اس پر میرے دل میں اور احساس ہوا کہ مولوی صاحب مجھ سے سختی کرتے ہیں، بے یہ تو آپ کا اپنا تاثر تھا۔آپ کے بچپن کے ہم جماعت محترم شیخ عبد العزیز صاحب جو آجکل لالپور میں رہائش پذیر ہیں اس بارہ میں اپنا الگ تاثر یوں بیان کرتے ہیں :- حضرت مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ اپنی خلافت کے زمانہ میں جمعہ پڑھانے کے بعد مسجد اقصی میں ہی تشریف فرما ہوتے اور چند ایک طلباء تھوڑے تھوڑے وقت میں اپنا اپنا مضمون یا لیکچر سناتے۔آخر میں حضرت مولوی صاحب ہر ایک کے مضمون اور لیکچر پر ریمارکس کرتے لیکن حضرت میاں صاحب مصلح موعود کے مضمون کی زیادہ ہی غلطیاں نکالتے اور بتاتے کہ آپ کو یہ یہ باتیں بیان کرنی چاہیئے تھیں اور اصلاح فرماتے ہوئے نہایت محبت اور شفقت سے ان کی بعض خوبیاں بھی بیان کرتے جس سے کم از کم میں تو ضروری سمجھتا کہ میاں صاحب کا مضمون سب سے تو کھاڑی ہے جس میں بے شمار نقائص ہیں۔لیکن مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ واصل آپ میاں صاحب کو ٹرینڈ کر رہے تھے۔بعد میں میں نے خود اُنہیں ایسے ایسے لیکچر دیتے سنا کہ عقل حیران ہو جاتی تھی کہ یہ وہی شخص ہے جو سب سے پھاڑی تھا یہ تھے الفضل در اکتوبر ما کے مستوده روایات محترم شیخ عبد العزیز صاحب