سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 105
زور نتیجہ یہ ہوا کہ میری ایک آنکھ کی بینائی ماری گئی۔چنانچہ میری باتیں آنکھ میں بینائی نہیں ہے میں رستہ تو دیکھ سکتا ہوں مگر کتاب نہیں پڑھ سکتا۔دو چارفٹ پر اگر کوئی ایسا آدمی بیٹھا ہو جو میرا پہچانا ہوا ہو تو میں اس کو دیکھ کر پہچان سکتا ہوں۔لیکن اگر کوئی بے پہچانا بیٹھا ہو۔تو مجھے اس کی شکل نظر نہیں آسکتی صرف دائیں آنکھ کام کرتی ہے مگر اس میں بھی کرے پڑ گئے اور وہ ایسے شدید ہو گئے کہ کتنی کئی راتیں میں جاگ کر کاٹا کرتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے میرے استادوں سے کہہ دیا تھا کہ پڑھائی اسکی مرضی پر ہوگی۔یہ جتنا پڑھنا چاہے پڑھے اور اگر نہ پڑھے تو اس پر یزید نہ دیا جائے کیونکہ اسکی صحت اس قابل نہیں کہ یہ پڑھائی کا بوجھ برداشت کر سکے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بارہا مجھے صرف یہی فرماے کہ تم قرآن کا ترجمہ اور بخاری حضرت مولوی صاحب سے پڑھ لو۔اس کے علاوہ آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ کچھ طلب بھی پڑھ لو کیونکہ یہ ہمارا خاندانی فن ہے۔ماسٹر فقیر اللہ صاحب حین کو خدا تعالیٰ نے اسی سال ہمارے ساتھ ملنے کی توفیق عطا فرمائی ہے وہ ہمارے حساب کے اُستاد تھے اور لڑکوں کو سمجھانے کے لئے بورڈ پر سوالات حل کیا کرتے تھے لیکن مجھے اپنی نظر کی کمزوری کی وجہ سے وہ دکھائی نہیں دیتے تھے کیونکہ جتنی دُور بورڈ تھا۔اتنی دور تک میری بینائی کام نہیں دے سکتی تھی اور پھر زیادہ دیر تک میں بورڈ کی طرف یوں تھی نہیں دیکھ سکتا تھا کیونکہ نظر تھک جاتی۔اس وجہ سے میں کلاس میں بیٹھنا فضول سمجھا کرتا تھا۔کبھی سے جی چاہتا تو چلا جاتا اور کبھی نہ جاتا۔ماسٹر فقیر اللہ صاحب نے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس میرے متعلق شکایت کی کہ حضور یہ کچھ نہیں پڑھتا۔کبھی مدرسہ میں آجاتا ہے اور کبھی نہیں آتا۔مجھے یاد ہے جب ماسٹر صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلا کے پاس یہ شکایت کی تو میں ڈر کے مارے چھپ گیا کہ معلوم نہیں حضرت مسیح وعود کس قدر ناراض ہوں۔لیکن حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام ا۔