سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 86 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 86

M سوچا لیکن فیصلہ نہ کر سکے کہ علم اور دولت میں سے کونسا اچھا ہے۔کھانے پر جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی بیٹھے ہوئے تھے۔آپ نے اپنے چھوٹے بھائی حضرت صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب سے باتوں باتوں میں پوچھا۔بشیر ! تم بتا سکتے ہو کہ علم اچھا ہے یا دولت؟ حضرت میاں بشیر احمد صاحب تو خاموش رہے البتہ خود حضور علیہ السلام نے یہ بات سن کر فرمایا بیٹا محمود ! توبہ کرو۔توبه کرد۔نہ علم اچھا نہ دولت - خدا کا فضل اچھا ہے تسلط اس لطیف انداز تربیت کا یہ اثر تھا کہ جس بے پناہ حسن اخلاق کے حضرت مرزا صاحب خود مالک تھے وہی حسن حضرت صاحبزادہ صاحب کے کردار میں بھی بدرجہ اتم سرایت کر گیا اور بعد ازاں ہمیشہ آپ کے دیکھنے والوں کا ذہین، خصوصاً ان دیکھنے والوں کا جنہوں نے آپ کے مقدس باپ کا چہرہ بھی دیکھا ہوا تھا، اس الہی وعدے کی یاد دلاتا رہا کہ وہ حسن و احسان میں تیرا نظیر ہوگا۔صرف دوستوں ہی نے اس حقیقت کو نہیں پایا بلکہ اغیار کی آنکھ بھی اس مماثلت کو خوب پہچانتی رہی۔یہ الگ بات ہے کہ اُن کی زبان اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے تلخی کی آمیزش لئے ہوتی تھی۔حضرت صاحبزادہ صاحب ہمیشہ لطیفے کے طور پر بچپن کے زمانے کا ایک واقعہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ اُن کی تائی جو حضرت مرزا صاحب کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر صاحب مرحوم کی بیوہ تھیں اور حضرت مرزا صاحب کی زندگی میں اور آپ کے وصال کے بعد ایک عرصہ تک آپ پر ایمان نہ لائی تھیں، جب حضرت صاحبزادہ صاحب کو دیکھا کرتیں تو بڑی تلخی سے یہ کہتی تھیں : " جیو جیا کاں اوہو جیتی کہ کو " حضرت صاحبزادہ صاحب کو اس وقت چونکہ پنجابی زبان کا پورا محاورہ نہ تھا اس لئے بہت مدت تک اس کا مفہوم نہ سمجھ سکے۔بعد ازاں پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اس سے مراد یہ تھی جس موبو کا باپ تھا ویسا ہی اُس کا بچہ۔اسی دشمن آنکھ نے اپنی آخری عمر میں یہ بھی توفیق پائی کہ اس مماثلت کو فما ثملت حسن و احسان کے طور پر پیچانا ہے۔چنانچہ وہ تائی جو اپنے دیور پر ایمان لانا اپنی غیرت اور شان کے خلاف سمجھتی تھی اپنی آخری عمر میں اپنے اس بھتیجے کے ہاتھ پر ایمان لا کر سلسلہ عالیہ حمدہے۔میں داخل ہوئی۔نفرت کی جگہ محبت نے لے لی اور رعونت کی جگہ اس درجہ انکسار نے کہ اس بچے اد سیرت میں موجود ص ۳۴۲