سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 334
کم ۲۳۳ حضرت خلیفہ مسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی وفات اور خلافت ثانیہ کا قیام۔۔۱۳ مارچ ۹۷ جمعہ کا دن تھا حسب سابق آپ نے صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب کو خطبہ دینے کا ارشاد فرمایا جمعہ سے کچھ دیر پہلے اچانک آپ کی طبیعت کرنے لگی۔اکثر دوست جمعہ کیلئے مسجد اقصی میں جاچکے تھے۔آپ نے ساعت وصال قریب دیکھ کر اپنے صاحبزادہ عبدالحی کو بلوایا اور حسب ذیل الفاظ میں الوداع کہی : ANTENN إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ پر میرا ایمان رہا اور اس پر مرتا ہوں اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب صحابہ کو میں اچھا سمجھتا ہوں۔اس کے بعد میں حضرت امام بخاری کی کتاب کو خدا کی پسندیدہ سمجھتا ہوں۔حضرت مرزا غلام احمد صاحب کو مسیح موعود اور خدا کا برگزیدہ انسان سمجھتا ہوں۔مجھے اُن سے اتنی محبت تھی کہ جتنی میں نے اُن کی اولاد سے کی تم سے نہیں کی۔قوم کو خدا کے سپر دکرتا ہوں اور مجھے اطمینان ہے کہ وہ ضائع نہیں کرے گا۔تم کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ خدا کی کتاب کو پڑھنا پڑھانا اور عمل کرنا میں نے بہت کچھ دیکھا پر قرآن جیسی چیز نہ دیکھی۔بے شک یہ خدا کی کتاب ہے۔باقی خدا کے سپر د میله اسی طرح اپنی صاحبزادی امتہ الحی کو پیغام دیا کہ وہ میرے مرنے کے بعد میاں صاحب سے کہہ دیں کہ عورتوں میں بھی درس دیا کریں میٹھے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی وفات بین جمعہ کے وقت ہوئی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب جمعہ کی نماز سے فارغ ہو کرہ دار السلام جانے سے پہلے کچھ دیر کے لئے اپنے گھر تشریف لے گئے تو اچانک حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کا ملازم گھبرایا ہوا پہنچا کہ نواب صاحب نے گھوڑا گاڑی بھیجی ہے، فوراً تشریف نے آئیں۔چنانچہ آپ اسی وقت گاڑی میں سوار ہو کر روانہ ہو گئے لیکن ابھی راستہ ہی میں تھے کہ ایک دوسرا ملازم دور تا ہوا آیا اور حضرت خلیفہ المسیح الاوں رضی اللہ عنہ کے وصال کی اندوہناک خبردی ان الله و انا الیه راجعون - آپ کو بھی پہنچتے ہی اپنے نہایت مشفق استاد اور مہربان آقا کی نعش مبارک کے پاس پہنچے۔اس سراپا نور مقدس وجود کا چہرہ دیکھا۔انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ کر فرمایا۔طبت حيا وميتا۔اور بڑے الحاج سے آپ کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کرنے کے بعد باہر دوستوں کے مجمع میں تشریف لے آئے له الحكم ۲ در تاریخ ۱۱ 1910 له الفضل ١٨ مارچ ۹۱