سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 25 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 25

۲۵ ماموریت کا دعوئی اور جماعت احمدیہ کا باقاعدہ قیام برا بین احمدیہ کی اشاعت تک حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کی زندگی کا دور اگرچہ سرا پا خدمت اسلام کے لئے وقف تھا تا ہم آپ کی یہ خدمت ایک انفرادی حیثیت رکھتی تھی اور نہ تو آپ علما کے کسی گروہ کے نمائندہ تھے نہ کسی مسلم سوسائٹی کی طرف سے مقرر تھے۔اسی طرح اگرچہ براہین احمدیہ میں آپ کے الہامات اور رویام و کشوف درج ہیں چین سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اللہ تعالے آپ کو بحیثیت مامور خدمتِ اسلام کا فریضہ سونپنے کا ارادہ فرما چکا ہے لیکن اس وقت تک ماموریت کا دعوئی کرنے اور محبت لے کر خدمت اسلام کے لئے کسی علیحدہ جماعت کے قیام کے متعلق کوئی قطعی ارشاد خداوندی نازل نہیں ہوا تھا۔لہذا معتقدین کی خواہش اور بار ہا اصرار کے باوجود آپ بیعت لے کر ایک جماعت کے قیام پر آمادہ نہ ہوتے اور خواہش کرنے والوں کو ہمیشہ یہی جواب دیتے رہے کہ ابھی اللہ قبل شانہ کی طرف سے بیعت لینے کا حکم نازل نہیں ہوا یشہ میں پہلی بار آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیعت لے کر اسلام کی خدمت پر مامور مخلصین کی ایک جماعت تیار کرنے کا ارشاد ہوا۔چنانچہ مارچ شہ میں لدھیانہ کے مقام پر آپ نے بیعت لے کر باقاعدہ جماعت احمدیہ کی بنیاد ڈالی۔اس تاریخی بیعت میں چالیس مخلص معتقدین کو شمولیت کا شرف حاصل ہوا۔بیعت کے ذریعہ مسلمانوں میں ایک علیحدہ جماعت کے قیام سے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کا جو مقصد تھا اور بعیت کے ذریعہ جماعت میں شامل ہونے والوں سے آپ نے جو توقعات وابستہ فرمائیں ان کی ایک جھلک آپ کے حسب ذیل الفاظ میں دکھائی دیتی ہے۔آپ فرماتے ہیں :- " وہ ایسے قوم کے ہمدرد ہوں کہ غریبوں کی پناہ ہو جائیں، یتیموں کے لئے بطور بالیوں کے بن جائیں اور اسلامی کاموں کے انجام دینے کے لئے عاشق زار کی طرح فدا ہونے کو تیار ہوں اور تمام تر کوشش اس بات کے لئے کریں کہ ان کی عام برکات دنیا میں پھیلیں اور محبت الہی اور ہمدردی بندگان خدا کا پاکت چشمہ بر یک دل سے نکل کر اور ایک جگہ اکٹھا ہو کر ایک دریا کی صورت