سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 291 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 291

۲۹۱ حضرت صاحبزادہ صاحب کا خط پورٹ حضرت خلیفہ المسیح الاول " کے نام اگرچہ میری جسمانی صحت اس سفر میں بہت کمزور رہی ہے لیکن روحانی طور سے بہت کچھ فائدہ ہوا ہے اور اس قدر دعاوں کا موقعہ ملا ہے کہ پہلے کم اتفاق ہوا تھا۔اور مجھے سے جس قدر ہو سکا اپنے علاوہ حضور کے لئے حضور کے خاندان کے لئے اپنے سب خاندان کے لئے قادیان کے احباب کے لئے پھر کل جماعت احمدیہ کے لئے اور اسلام کے لئے بہت دعائیں کیں۔خصوصاً انیس تاریخ تمام کو جہاز پر کچھ ایسی حالت ہوتی کہ مجھے یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا تمام زمین و آسمان نور سے بھر گیا۔اور دل میں دُعا کا اس قدر جوش تھا کہ میں نے کبھی نہیں دیکھا۔اور پھر ساتھ دل میں یقین معلوم ہوتا تھا اور اطمینان تھا کہ سب دعائیں قبول ہو رہی ہیں اور دُعا سے طبیعت گھبرائی نہ تھی۔علاوہ ازیں ہمارے سفر میں اکثر اوقات دُعا کا موقعہ ملتا تھا۔سمندر بہت اچھا رہا۔ایک دن تو وہ کچھ تیز تھا مگر کچھ تکلیف نہیں ہوتی۔میرے ساتھ بہت سے طلبا تے انگلستان سوار تھے۔مسلمان بھی اور ہنود بھی، اُن کو تبلیغ کا بھی خوب موقعہ مل گیا۔سب کے سب دھر یہ تھے اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہنسی اور ٹھٹھا کرتے تھے۔بہنود گائے کے گوشت سے کسی قسم کا پر میز نہیں کرتے تھے کیونکہ اب وہ مذہب سے بالکل آزاد تھے۔میں حتی الوسع سفر میں اُن کے پیچھے پڑا رہا اور وہ بھی کچھے مانوس ہو گئے تھے۔جب اپنے کاموں سے فارغ ہوتے، میرے پاس بیٹھ کر دین کی باتیں شروع کر دیتے تین بیرسٹر تھے سب سے زیادہ دریدہ دہن تھے۔مگر اللہ تعالٰی کے فضل سے کوشش رائیگاں نہیں گئی اور گو انہوں نے پورے طور سے اقرار نہ کیا لیکن ایک نے یہ اقرار کیا کہ گو پہلے میں اس معاملہ میں بالکل نڈر تھا لیکن اب خدا کے بارہ میں ہنسی کرتے یا سنتے میرا دل کانپ جاتا ہے اور ایک خواہش پیدا ہو سکتی ہے کہ اس بات کی پوری طرح سے چھان بین کروں اس لئے یہ بھی کہا کہ اگر چہ آپ کی باتوں کا جواب میں نہیں دے سکتا لیکن چونکہ میرا پرانا اعتقاد جما ہوا ہے، اس