سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 290 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 290

۲۹۰ پہنچتے ہی خواب آیا کہ حضرت یا آپ فرماتے ہیں کہ فوراً مکہ چلے جاؤ پھر شاید موقعہ ملے نہ ملے۔چنانچہ دو جہاز چلے گئے اور ہم ان میں سوار نہ ہو سکے جس سے خواب کی تصدیق ہو گئی۔اس طرح مصر کی سیر بھی نہ کر سکے اور جب مکہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ اب مصر نہیں جا سکتے۔کیونکہ گورنمنٹ مصر کا قاعدہ ہے کہ سوائے ان لوگوں کے جو جا مصر کے باشندہ ہوں حج کے بعد چار مہینہ تک کوئی شخص حجاز و شام سے مصر نہیں جا سکتا۔اس طرح گویا اگر میں مصر جانا چاہوں تو مجھے اپریل تک وہاں جانے کی اجابات نہیں اپریل کے آخر میں وہاں جا سکتا ہوں۔پہلے تو اس خبر کو میں گپ ہی سمجھا تھا، لیکن بعد میں حاجی علی جان والے جو دہلی کے سوداگر ہیں، اُن کے یہاں سوداگر ہیں، اُن سے معلوم ہوا کہ واقعی حکم یہی ہے اور چونکہ ان کے کاروبار ان دیار میں جاری ہیں، اُن کو یقینی علم ہے۔ایک اور شخص نے بتایا کہ میں پچھلے سال شام میں تین ماہ تک رُکا رہا اور اس مدت کے گزرنے پر پھر مصر کے داخلہ کی اجازت ملی۔اب اس صورت میں مصر کو واپس جانا فضول معلوم ہوتا ہے۔حج کے بعد چار ماہ تک مصر کے داخلہ کا انتظار کرنا فضول ہے۔میں نے تو ان سب واقعات کو ملا کر یہی نتیجہ نکالا ہے کہ منشائے انہی مجھے حج کروانے کا تھا۔اور مصر کا خیال ایک تدبیر تھی۔میں تو اللہ تعالیٰ کی اس مہربانی پر قربان ہوں کہ میرے جیسے گنہگار انسان کی کیا حقیقت تھی کہ اس پر اس قدر لطف و عنایت کی نظر ہوتی۔اور اس طرح اسے ایسے پاک مقامات کی زیارت کروائی جاتی مگر خدا تعالیٰ کا پیار بھی اپنے بندوں سے سمجھ میں نہیں آسکتا۔وہ تو محسن سے مگر ہماری طرف سے ناشکری ہوتی ہے۔اعوذ باللہ من الشیطن الرحیم کل عمرہ ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اُمید سے بڑھ کر دعاؤں کی توفیق دی اور میں نے حتی المقدور حضور کے لئے حضور کے خاندان کے لئے کل احمدی جماعت اور اسلام اور مسلمانوں کے لئے دعائیں کیں۔زیارت بیت اللہ کے وقت بھی اور صفا و مروہ کی سعی کے وقت بھی خصوصاً جماعت کی ترقی اور آپس کے اتحاد و مودت کے لئے والله المجيب - والسلام خاکسار مرزا محمود احمد