سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 256 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 256

۲۵۶ کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا۔وہاں ایک پادری سے جس کا نام بیگن تھا نہ ہی مسائل پرتفصیلی کنگو کی۔بعد میں ڈلہوزی سے واپس آکر آپ نے اس گفتگو کی تفصیل پہاڑی وعظہ کے نام سے رسالہ شہید الاذہان میں شائع کرادی۔آپ کے دلچسپ طرز استدلال کے نمونہ کے طور پر اس گفتگو کا ایک حصہ یہاں درج کیا جاتا ہے :-۔۔مجھے بھی پچھلے دنوں پہاڑ پر جانے کا اتفاق ہوا۔اور وہاں پنجاب کے ایک مشہور و معروف پادری صاحب سے ہم کلامی کا موقع ملا۔۔۔پاور کی صاحب ہم کو ڈالوڑی کے بازار میں کتابوں کا ایک بنڈل ہاتھ میں لئے ہوئے نظر آئے جو قریباً تمام کی تمام اسلام کے خلاف تھیں اور اسی غرض سے لکھی گئی تھیں کہ نادان اور جاہل مسلمانوں کو ٹھسلا کر دائرہ اسلام سے خارج کرکے مسیح کی بھیڑوں میں شامل کیا جائے۔پادری صاحب نے عبد الملاقات دو رسالے ہمیں بھی دیئے جن میں اسلام اور اس کے بانی پر مختلف پیرائیوں میں حملے کئے گئے تھے۔انہیں پڑھ کر میری طبیعت میں اور بھی جوش آیا کہ پادری صاحب سے مل کر ضرور چند باتوں کا تصفیہ کرنا چاہیئے۔اس اتفاقی ملاقات کے دوسرے یا تیسرے دن فرصت نکال کر میں اور دو اور صاحب یا دری صاحب کی ملاقات کے لئے گئے۔نصف گھنٹہ کی تلاش کے بعد پادری صاحب کی گوٹھی کا پتہ لگا۔جو ایک بڑی پرفضا اور خوبصورت مقام پر بنی ہوتی تھی۔۔۔پادری حساب برآمدے میں ہی کھڑے تھے۔دیکھ کر بڑے تپاک سے ملے اور اندر لے گئے۔اور ملاقات کے کمرے میں تم تینوں کو بٹھا کر ایک دو منٹ کے لئے باہر تشریف لے گئے۔واپس آنے پر پادری صاحب نے حسب معمول مختلف واقعات پر گفتگو شروع کی۔اور انگلستان کی موجودہ حالت پر باتیں ہوتی رہیں۔ان پادری صاحب کا نام بینگن ہے۔۔۔ادھر ادھر کی گفتگو کے بعد پادری صاحب نے گفتگو کا رخ مسیحیت کی طرف پھیرا اور چاہتے تھے کہ صیحیت کے متعلق طول و طویل تحصیلوں میں ہم کو لے جائیں اور جو احسانات مسیحیت نے یورپ پر کتے ہیں اہمارے سامنے بیان کریں لیکن چونکہ وقت کم اور فرصت قلیل تھی میں نے عرض کی کہ ہم سر دست تثلیث کے متعلق کچھ پوچھنا چاہتے ہیں جسکی پادری صاحب نے بڑی خوشی سے اجازت دی۔چونکہ میں نے جاتے ہی پادری صاحب سے عرض کر دیا تھا کہ میں آپ سے جو گفتگو کروں گا وہ طالب حق ہونے کی حیثیت سے کرونگا نہ کہ کسی