سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 255
۲۵۵ - بعض دیگر سفر علم کی تلاش اور تعلیم دین کی اشاعت کا جذبہ عشق کی حدتک پہنچا ہوا تھا۔نہ دن کو آرام کرتے نہ رات کو چین سے سوتے۔بہر وقت یہی خیال تھا کہ دین احمد کی اشاعت ہو تو کیو نکر دنیا صحیح تعلیم روشناس ہو تو کس طرح مختلف مقامات پر جو تبلیغی یا تربیتی اجلاس ہوتے حضرت خلیفہ المسیح رضی اللہ عنہ کی ہدایت پر آپ اُن میں شمولیت فرماتے۔اسی ضمن میں آپ اندرون ملک دہلی ڈاموزی بنارس کا پورٹ لاہور، متان تصور امرتسر باله وزیر آباد اور دوسرے متعدد مقامات پر تشریف لے گئے اور بڑے بڑے مجمعوں کو خطاب فرمایا۔جس کا خاص روحانی اثر پیدا ہوا اور متعدد افراد کو قبول حق کی توفیق می۔جماعت احمدیہ فیروز پور ملتان اور لاہور کے سالانہ جلسوں میں آپ کی پر اثر تقاریر کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ور میں آپ حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا کے ساتھ دہلی تشریف لے گئے۔آپ نے آپ سفر کے تبلیغی حالات انہی دنوں الحکم میں شائع کرائے۔جو بڑے دلچسپ اور معلومات افزا تھے۔دہلی میں آپ کے دو لیکچر ہوئے۔ایک کا موضوع "اسلام اور آریہ مذہب اور دوسرے کا اسلام اور عیسائیت تھا دونوں لیکچروں میں دہلی کے معززین کی ایک کثیر تعداد شامل ہوئی۔ایک جلسہ کی صدارت خواجہ حسن نظامی نے کی۔قیام دہلی کے دوران ہی آپ نے لاہور کے جلسہ سیرت النبی میں شمولیت فرمائی۔اس کے بعد پھر دہلی گئے۔وہاں کچھ دن قیام کرنے کے بعد جماعت احمدیہ تصور کے سالانہ جلسہ میں شرکت کے لئے تشریف لے گئے۔چونکہ حضرت ام المومنین ابھی دہلی میں تشریف رکھتی تھیں۔اس لئے قصور کے جلسہ سے فارغ ہو کر پھر دبلی اُن کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہاں ایک اور روح پرور لیکچر دینے کا موقع بلا۔دہلی سے واپسی کے وقت آپ نے جن الفاظ میں دُعا کی اُن سے آپ کے دلی جذبات کا اظہار ہوتا ہے۔آپ نے کہا خدا وہ دن لاتے کہ اس شہر کو بھی خدا ہدایت دے اور اس مٹی سے پھر کسی دن اس قسم کے برگزیدہ لوگ پیدا ہوں جن کے مزار بکثرت وہاں پائے جاتے ہیں لیے ہ میں آپ حضرت خلیفہ المسیح رضی اللہ عنہ کے مشورہ کے ماتحت بھائی صحت کی غرض سے ڈلہوزی تشریف لے گئے۔یہ ایک تفریحی سفر تھا۔لیکن اس میں بھی تبلیغ حق کے فریضہ کا له الحكم ، رمتی شاه 141