سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 247
۲۴۷ اپیل بخدمت قوم " یہ وہ نظم ہے کہ جو میری طرف سے ڈاکٹر احمد حسین صاحب لائلپوری نے سالانہ جلسہ کے موقعہ پر پڑھی۔میں نے اس وقت بھی حاضرین جلسہ کی خدمت میں عرض کر دی تھی کہ میں شاعری کے شوق میں نظم نہیں کہتا۔بلکہ ایک خاص جوش جب تک پیدا نہ ہو، نظم کہنا مکر وہ سمجھتا ہوں۔اس لئے سامعین اسے شعر سمجھ کر نہیں بلکہ درد دل سے نکلی ہوئی نصیحت سمجھ کر سنیں۔اور اب بھی میں گل ناظرین کی خدمت میں التماس کرتا ہوں کہ وہ اسے غور سے پڑھیں اور پھر اس کے مطالب پر غور کریں حتی الوسع اس پر عمل کرنے کے کوشش کریں۔وما توفیقی الا بالله - خاکسار مرزا محمود احمد مدت سے پارہ ہائے جگر کھا رہا ہوں میں یہ رنج در محمن کے قبضہ میں آیا ہوا ہوں میں میری کمر کو قوم کے غم نے دیا ہے توڑ کسی ابتلا میں ہاتے ہو ا مبتلا ہوں میں کوشان حصول مطلب دل میں ہوں اس قدر کہتا ہوں تم کو سچ ہمہ تن التجا ہوں میں کچھ اپنے تن کا فکر ہے مجھ کو نہ جان کا دین محمد متی کے لئے کر رہا ہوں میں میں رو رہا ہوں قوم کے مرجھائے پھول پر بلبل تو کیا ہے اس سے کہیں خوشنوا ہوں میں بیمار رُوح کے لئے خاک شفا ہوں میں ہاں کیوں نہ ہو کہ خاک در مصطفے ہوں میں پھر کیوں نہ مجھ کو مذہب اسلام کا ہو فکر جب جان و دل سے معتقد میبر تا ہوں میں کہتا ہوں سچ کہ فکر میں تیری ہی فرق ہوں اسے قوم سن کہ تیرے لئے کر رہا ہوں میں کیا جانے تو کہ کیسا مجھے اضطراب ہے ایسا تیاں ہے سینہ کہ دل تک کباب ہے ه تشید الازمان ماہ فروری نشده مدت ۱ تا ۱۹ لے