سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 183 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 183

IAF اس تقریر کے بعد بیک زبان حاضرین نے باآواز بلند یہ عہد کیا کہ ہم آپ کے تمام احکام مانیں گے آپ ہمارے امیر ہیں اور مسیح موعود کے جانشین۔چنانچہ اس اقرار کے بعد الحاج حضرت حکیم نور الدین خلیفہ المسیح الاول نے جملہ حاضرین سے جنکی تعداد بارہ سو تھی۔بیعت خلافت کی اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کی تاریخ میں ایک نیا دن طلوع ہوا۔یہ دن قدرت ثانیہ کا دن تھا جس نے تا ابد جماعت احمدیہ کے ساتھ رہنا تھا اور جس کی خوشخبری حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کو دی تھی۔چنانچہ شہادت القرآن" میں آپ فرماتے ہیں :- "چونکہ کسی انسان کے لئے دائمی طور پر بقا نہیں لہذا خدا تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا کہ رسولوں کے وجود کو جو کہ تمام دنیا کے وجودوں سے اشرف و اولی ہیں، ظلی طور پر ہمیشہ کے لئے تا قیامت قائم رکھے۔سو اسی غرض سے خدا تعالیٰ نے خلافت کو تجویز کیا تا دنیا کبھی اور کسی زمانہ میں برکات رسالت سے محروم نہ رہے۔" اسی طرح رسالہ الوصیت میں آپ فرماتے ہیں :- ” خدا تعالیٰ کی سنت ہے اور جب سے اس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہمیشہ اس سنت کو ظاہر کرتا رہا کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے : كَتَبَ اللهُ لَا غُلِبَنَ أَنَا وَرُسُلِى (المجادله : ۳۲) اور غلبہ سے مراد یہ ہے کہ جیسا کہ رسولوں اور نبیوں کا منشا ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت زمین پر پوری ہو جائے اور اس کا مقابلہ کوئی نہ کر سکے اس طرح خدا تعالیٰ قومی نشانوں کے ساتھ ان کی سچائی ظاہر کر دیتا ہے اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اس کی تخمریزی انہیں کے ہاتھ سے کر دیتا ہے لیکن اس کی پوری تعمیل اُن کے ہاتھ سے نہیں کرتا بلکہ ایسے وقت میں اُن کو وفات دے کر جو بہ ظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتا ہے، مخالفوں کو ہنسی اور ٹھیٹھے اور طعن اور تشنیع کا موقعہ دے دیتا ہے اور جب وہ ہنسی ٹھٹھا کر چکتے ہیں تو پھر ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے اور ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن کے ذریعہ