سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 177
166 حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب کا ایک تاریخی عہد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تدفین کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب صبر و عزم کا بیسیکر بنے ہوئے نہایت وقار کے ساتھ اپنے خالی گھر واپس تشریف لائے۔وہ گھر جو اپنے پیارے باپ اور کے مقدس امام کے وجود سے خالی ہو چکا تھا جس میں نہ تو امامت در شے کے طور پر پیچھے چھوڑی گئی تھی نہ ہی دنیا کے اموال و اسباب اور نعمتوں کے سامان۔لیکن جیسا کہ آپ کی بزرگ والدہ نے اپنے سب ؟ کو جمع کر کے وصیت فرمائی ، حقیقت میں یہ گھر خالی نہ تھا۔آپ نے فرمایا : بیجو با گھر خالن دیکھ کر یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے ابا تمہارے لئے کچھ نہیں چھوڑ گئے۔انہوں نے آسمان پر تمہارے لئے دعاؤں کا بڑا بھاری خزانہ چھوڑا ھے جو تمہیں وقت پر ملتا رہے گا " سے پس اس دن کے بعد کی تاریخ اسی بھاری خزانے کی تقسیم کی تاریخ ہے جو اللہ تعالٰی کے فضلوں کی صورت میں اس نوجوان پر خصوصیت کے ساتھ اور باقی بہن بھائیوں پر بالعموم حسب مراتب ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قدر معلوم کے مطابق نازل ہوتا رہا۔صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے اور اس سفر البشیراء کا آغاز ہوتا ہے جو اپنے مرحوم آقا سے جُدائی کے بعد اس کی دعاؤں کے سائے تلے آپ کو تن تنہا طے کرنا تھا۔یہ سفر ایک مخصوص منزل کی جانب اور ایک معین قبلہ کی طرف تھا جس کی تعیین خود حضرت صا حبزادہ صاحب نے اپنے مرحوم باپ کی نعش مبارک کے سرہانے کھڑے ہو کر کی تھی۔یہ ایک مقدس عہد تھا جو آپ نے اپنے رب سے کیا اور پھر تا زندگی پوری وفا اور عزم اور ہمت کے ساتھ اس پر قائم رہے۔اپنی زندگی کے ان عہد آفریں لمحات کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں :- " 194 له الفضل ۱۹ جنوری ۱ روایت حضرت سیدہ نواب مبار که بیگم صاحبه وظلمها