سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 153
۱۵۳ کا تذکرہ ضروری سمجھتا ہوں کہ آپ کو بچپن کے زمانہ میں جب کہ وہ مدرسہ تعلیم الاسلام میں میرے ساتھ پڑھتے تھے۔آپ نے ذکر فرمایا کہ ان کو یہ آیت العام ہوتی ہے: جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبِعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إلى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " اور یہ بھی فرمایا کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کر دیا تھا کہ یہ یہ الہام مجھے ہوا ہے یہ لے نو عمری ہی کے عالم میں اللہ تعالٰی کی رویت کا شرف بھی آپ کو نصیب ہوا۔چنانچہ مسجد احمدیہ لنڈن کی تعمیر کے لئے چندہ کی تحریک کرتے ہوئے ایک خطبہ جمعہ کے دوران اس رویت انہی کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں :- مجھے آج تک تین اہم معاملات میں خدا تعالی کی رویت ہوتی ہے۔پہلے پہل اس وقت کہ ابھی میرا بچپن کا زمانہ تھا۔اس وقت میری توجہ کو دین کے سیکھنے اور دین کی خدمت کی طرف پھیرا گیا اس وقت مجھے خدا نظر آیا اور مجھے تمام نظارہ حشر و نشر کا دکھایا گیا۔یہ میری زندگی میں بہت بڑا انقلاب تھائی کے معلوم ہوتا ہے کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی یہ حساس تھا کہ اس بچے کے ساتھ خدا تعالیٰ کا خاص تعلق اس کم عمری کے زمانہ ہی میں شروع ہو چکا ہے چنانچہ خود حضرت مرزا محمود احمد صاحب بیان فرماتے ہیں کہ :- جن دنوں کلارک کا مقدمہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اواں کو دُعا کے لئے کہا تو مجھے بھی کہا کہ دعا اور استخارہ کرو۔میں نے اسوقت رویا نہیں دیکھا کہ ہمارے گھر کے ارد گرد پہرے لگے ہوتے ہیں۔میں اندر گیا جہاں سیڑھیاں ہیں وہاں ایک تہ خانہ ہوتا تھا۔میں نے دیکھا کہ حضرت صاحب کو وہاں کھڑا کر کے آگے ابلے چین دیئے گئے ہیں اور اُن پر مٹی کا تیل ڈال کر کوشش کی جارہی ہے کہ آگ لگا دیں۔مگر جب دیا سلائی سے آگ لگاتے ہیں تو آگ ۱۹۲۰ + نه روایت حضرت مرزا احمد بیگ صاحب له الفضل ۲۲ جنوری شه و