سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 143 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 143

۴۳ اور کہا اب جا کر یہ پیر جی کو دیکھا دو۔اُن دنوں وہ گول کمرے میں ہمارے ہاں ہی رہتے تھے۔میں نے جا کر دیکھا دیا۔پیر جی نے کہا تو یہ ! توبہ ! لا حول ولا قوة الا باللہ مجھ سے بڑی غلطی ہو گئی اور چاک کرنے لگے۔میں نے اُن کو کہا اپنے شعر کو پھاڑ دو پر بڑے بھائی کا شعر نہیں پھاڑنے دوں گی۔غرض بڑے بھائی صاحب سے بہت مانوسیت تھی اور حضرت سیح موعود علیہ السلام کو بھی علم تھا کہ میں اُن سے اور وہ مجھ سے بہت مانوس اور بے تکلف ہیں۔آپ اب بڑے ہو چکے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بچین کی بے تکلفی سے کچھ طلب نہ کرتے تھے۔دیے بھی سوال کرنا آپ کو نا پسند تھا مگر وہاں تو ادب کا بھی حجاب تھا۔چندبار مجھے ہی حضرت مسیح موعود علیه السلام نے کہا کہ محمود کچھ خاموش اور اداس ہے تم کو بتائے گا۔تم بھائی سے پوچھو کس چیز کی ضرورت ہے۔دو تین بار کا تو مجھے ٹھیک یاد ہے۔ایک دفعہ تو میرے پوچھنے پر کہا تھا " کہنا پو بخاری منگا دیں۔پھر کئی جلدوں میں سُرخ جلدیں تھیں بہت سے پارے بخاری شریف کے آئے تھے۔ایک بار اس طرح آپ کے فرمانے پر میں نے پوچھا تو کہا سولی اخبار میرے نام جاری کرا دیں۔وہ بھی ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ سے واضح طور پر بہت محبت اور آپ کی بہت قدر تھی۔اس کم عمری میں بھی مجھ پر یہ اثر تھا کہ مبارک چھوٹا ہے اور میں لڑکی ہوں اس لئے زیادہ خیال میرا رکھنے اور مبارک سے زیادہ پیار کرتے ہیں مگر اصل میں سب سے زیادہ میرے ابا کو پیارے میرے بڑے بھاتی ہیں۔شادی کے بعد جب میں آتی میری آواز سُن کر یا معلوم کرکے کہ میں آئی ہوئی ہوں فوراً تشریف لے آتے جو بات نئی میری غیر حاضری میں ہوتی مجھے ضرور سُناتے۔اپنے اشعار بالعموم پہلے مجھے سناتے۔دو تین بار مصرعہ میں نے لگا دیا اس کو پسند کیا اور شامل کر لیا۔ایک بار جب آپ کے اشعار کا پہلا مجموعہ کلام محمود شائع ہوا، مجھ سے پوچھا ٹھیک ٹھیک