سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 128 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 128

IMA او دو اور لڑکے بھی میرے ساتھ تھے۔جب میں وہاں پہنچا چند نوجوان سکھ اُس گاؤں کے ہمارے پاس آتے اور کہنے لگے، آؤ ہم تم کو شکار بتلاتے ہیں۔چنانچہ وہ ہمیں گاؤں کے قریب لے گئے اور خود انہوں نے ہمیں شکار بتلایا اور جگہ جگہ ہمارے ساتھ پھرتے رہے اور جس طرح ہم اس شکار میں لذت محسوس کر رہے تھے، اسی طرح وہ بھی لذت محسوس کر رہے تھے۔اور میں طرح ہم شوق سے شکار کی تلاش میں پھر رہے تھے، ہمارے ساتھ وہ بھی اسی طرح شوق کے ساتھ پھر رہے تھے کہ ایک جگہ ایک درخت پر فاختہ نظر آئی میں نے نشانہ لگا کر بندوق چلائی اور وہ گر گئی۔اس سے بھی جس طرح ہم نے لذت اور خوشی محسوس کی، اسی طرح انہوں نے بھی خوشی کا اظہار کیا کہ اتنے میں گاؤں کی ایک بڑھیا وہاں سے گزری۔اس نے جو فاختہ کو تڑپتے ہوئے دیکھا تو دیکھتے ہی شور مچانا شروع کر دیا اور ان نوجوان سکھوں سے کہا کہ تم کو شرم نہیں آتی ! تم ایسے بے غیرت ہو گئے ہو کہ لوگ دوسرے گاؤں سے آگرہ تمہارے گاؤں میں جیتو ہتیا کرتے ہیں۔(آگے حضور نے فرمایا کہ اس بڑھیا کے کتنے پیران نوجوان سکھوں کا رنگ متغیر ہو گیا اور وہ کہنے لگے کہ یہاں شکار نہ کریں لیے یہ واقعہ میرے نزدیک اس پہلو سے مطالعہ کے لائق ہے کہ ایسا واقعہ اگر کسی عام بچے سے پیش آتا تو یقینا وہ سخت خوف محسوس کرتا اور یہی خوف اس کی یاد کا نمایاں پہلو بن کر اس کے ذہن پر ثبت ہو جاتا۔بلاشبہ صورت حال ایسی تھی کہ بڑھیا کی اہمیت سے آپ اور آپکے چند معصوم ساتھیوں کیلئے سخت خطرہ پیدا ہو سکتا تھا۔جس زمانہ کا یہ ذکر ہے ان دونوں قادیان کی آبادی بہت کم تھی اور علاقے پر وہ رعب ابھی قائم نہ ہوا تھا جس کا ہم نے بعد کے زمانہ میں مشاہدہ کیا۔لیکن بعد کے زمانہ میں بھی جب کہ قادیان کی ٹھاک بیٹھ چکی تھی۔مجھے یاد ہے کہ قادیان کے بچے سکھوں کے بعض بد نام دیہات میں جانے سے گھبراتے تھے کیونکہ ان کی وحشت اور جرائم کے قتے عام مشہور تھے اور بسا اوقات وہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے برانگیخ ہو کر بچوں کو زد و کوب کیا کرتے تھے۔بلکہ بڑوں سے بھی اُن کے اُلجھنے اور بعض اوقات اچھی خاصی لڑائیاں ہونے کے واقعات روز مرہ کے مشاہدہ کی باتیں تھیں۔لہذا میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس پس منظر کی روشنی میں بچوں کو ایسے واقعات اگر یا د رہتے ہیں تو خوف اور گھبراہٹ کی ہیجانی کیفیات کی وجہ سے له الفضل قادیان سهم را پریل ۱۹۲۵