سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 116
114 اور یہی بیج تھا جو آپ کی عمر کے ساتھ ساتھ ترقی کرتا گیا اور زیادہ واضح اور زیادہ نمایاں شکل میں کمال کے آخری مرتبہ تک پہنچ گیا۔یہ پانی کا واقعہ ایک دفعہ نہیں بلکہ کئی دفعہ ہوا اور حضور ہمیشہ اطاعت کے اصول پر مضبوطی سے قائم رہے۔ممکن ہے کہ کوئی شخص خیال کرے کہ شاید حجاب کی وجہ سے آپ ہمارے گھر سے پانی پینے سے اجتناب فرماتے مگر ایسا نہیں تھا ، آپ بے تکلفی سے ہمارے گھر میں رہتے اور حضور کی خوش خلقی اور خوش طبعی کی باتیں اس وقت بندہ کے گھر سے نہایت محبت کے ساتھ یاد کرتی ہیں اور جب حضور کے منصب خلافت پر سرفراز ہونے کے بعد بندہ کے گھر سے بیعت کے لئے حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضور نے اُس وقت کے بچپن کے واقعات ان کو یاد دلائے کیونکہ حضور کا حافظہ بہت مضبوط ہے۔حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثانی ایده الله تعالیٰ بنصرة العزيز کی طالب علمی کا ایک اور واقعہ لکھتا ہوں اس سے بھی آپ کی قلبی کیفیت پر روشنی پڑتی ہے۔ایک دن کچھ بارش ہو رہی تھی مگر زیادہ نہ بھی بندہ وقت مقررہ پر حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔سیڑھیوں کا دروازہ کھٹکھٹایا حضور نے دروازہ کھولا۔بندہ اندر آکر برآمدہ میں ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔آپ کمرہ میں تشریف لے گئے۔میں نے سمجھا کہ کتاب لے کر باہر برآمدہ میں تشریف لائیں گے گھر جب آپ کے باہر تشریف لانے میں کچھ دیر ہو گئی تو میں نے اندر کی طرف دیکھا اور کیا دیکھتا ہوں کہ آپ فرش پر سجدہ میں پڑے ہوئے ہیں۔میں نے خیال کیا کہ آج بارش کی وجہ سے شاید آپ سمجھتے تھے کہ میں حاضر نہیں ہوں گا۔اور جب میں آگیا ہوں تو آپ کے دل میں خاکسار کے لئے دعا کی تحریک ہوتی ہے اور آپ بندہ کے لئے دعا فرما رہے ہیں۔آپ بہت دیر تک سجدہ میں پڑے رہے اور دعا فرماتے رہے یہ بے اسی طرح حضرت مفتی محمد صادق صاحب بھی جو آپ کے بچپن کے اساتذہ میں سے تھے۔اپنے تاثرات کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں :- ن الفضل ۱۵ نومبر ۱۹