سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page vi
۔۔بورڈ آف ایڈیٹرز کے بارہ میں چند الفاظ تشکر کام کی غیر معمولی اہمیت کے پیش نظر فضل عمر فاؤنڈیشن نے یہ پسند نہ کیا کہ ایک ہی شخص کی صوابدید پر اس کام کو چھوڑ دیا جائے۔چنانچہ سلسلہ کے بعض بلند پایہ بزرگان اور جید علما پر مشتمل ایک بورڈ تشکیل کیا گیا جس کے اراکین کے اسما ٹائٹل پیج پر درج ہیں میمضمون کا مسودہ باری باری ان تمام بزرگان کی خدمت میں اُن کی آرا اور رہنمائی کے لئے ارسال کیا جاتا رہا جو اپنی اپنی مصروفیات کے مطابق کبھی کم اور کبھی زیادہ وقت لے کر مستورہ کا گہری تنقیدی نظر سے مطالعہ فرمانے کے بعد خاکسار کی مناسب رہنمائی فرماتے رہے۔یہ کام خاصہ وقت طلب تھا اور مختلف آرا کو مختلف بزرگان کے سامنے از سر نو پیش کر کے کسی ایک نتیجہ تک پہنچنا مزید وقت کا متقاضی تھا جو جملہ ممبران بورڈنے بڑی بشاشت اور فراخدلی سے صرف فرمایا۔بالخصوص حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب اور حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر کا تعاون اور مشفقانہ رہنمائی میرے لئے مشعل راہ ثابت ہوتے۔ان دونوں بزرگان نے کم سے کم مدت میں مسودہ کے ہر حصہ کا بالاستیعاب مطالعہ کر کے ہمیشہ نہایت قیمتی تنقید اور اصلاح فرمائی۔فجزاهم الله احسن الجزاء - آخر پر میں مگرم یوسف سلیم صاحب ایم۔اے انچارج شعبہ زود نویسی کا شکریہ ادا کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں جو ابتدا ہی سے اس کام سے متعلق رہے اور ضروری مواد اکٹھا کرنے اور ترتیب دینے میں محترم ملک سیف الرحمن صاحب کے بعد خاکسار کا بھی بڑے خلوص اور محنت سے ہاتھ بٹاتے رہے۔اسی طرح کا نی ریڈنگ میں بھی آپ نے بہت جانفشانی دکھاتی اور چھوٹے چھوٹے اسقام کی بھی نشاندہی کرتے رہے۔اس جلد کی کتابت خیس نوجوان کا تب اعجاز احمد محمود نے کی ہے وہ بھی میرے شکریہ کے مستحق ہیں کیونکہ اُن کا تعاون آجرا نہ نسبت سے بہت بڑھ کر تھا اور دلی لگن اور جذبہ شوق کے ساتھ اس کام کو سر انجام دیا۔وما توفيقنا الا بالله والسلام خاکسار مرزا طاہر احمد +1940