سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 49 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 49

دلیل ہو۔شوق سے آئے اور قادیان میں کچھ عرصہ میرے پاس قیام کرے۔اِس عرصہ قیام کے دوران اگر خدا تعالٰے اسے کوئی واضح اور غیر مبہم نشان میری صداقت کا نہ دکھا دے تو وہ شخص بے شک مجھے بھوٹا قرار دے۔آپ نے فرمایا کہ ہر سچائی روشن آفتاب کی طرح خود اپنی دلیل ہوتی ہے، اسے کسی مصنوعی سہار کی ضرورت نہیں ہوتی۔اگر خدا تعالیٰ کسی کے ساتھ ہے تو اس کے لئے اس سے بڑھ کر صداقت کی اور کیا ہو سکتی ہے ؟ خدا کا قرب بذات خود اپنی صداقت کی آپ دلیل ہے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی اس صلائے عام کے نتیجہ میں قادیان کے آریوں نے ایک محضر نامہ آپ کی خدمت میں اس مضمون کا پیش کیا کہ آپ جو دور دراز کے بسنے والے متلاشیان حق کو بھی قادیان اگر نشان دیکھنے کی دعوت دیتے ہیں تو ہم جو آپ کے ہمسایہ میں رہتے ہیں، ہمیں کیوں اس سے محروم رکھا جائے۔اس خیرات کو گھر سے شروع کیجئے اور پہلے ہمیں خدا تعالٰے کے قرب اور رحمت کا نشان دکھائیے۔حضرت مرزا صاحب کی زندگی میں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اسلام کے احیائے نو کی عظیم الشان جدوجہد کی تاریخ میں یہ موقع ایک بلند اور عظیم سنگ میل کی حیثیت رکھتا تھا۔آپ کا قلب سلیم اس یقین سے پر تھا کہ اسلام کی صداقت اور زندگی بخش قوت کو پرکھنے کے لئے بلکہ ایک زندہ اور صاحب قدرت خدا کے وجود کا ثبوت طلب کرنے کے لئے آریہ مت نے اسلام کو جو چیلنج دیا ہے اللہ تعالیٰ کی غیرت ضرور اس موقع پر جوش مارے گی اور آپ کی گریہ وزاری کو قبول فرماتے ہوتے وہ اپنی غیر معمولی قدرت اور رحمت کا نشان دکھلائے گا۔اب سوال یہ تھا کہ اس موقع پر کس نوعیت کا نشان طلب کیا جائے۔کیا معجزہ کے عامی تصور کے پیش نظر آگ پر چل کر یا پانی میں سے گزر کر دکھایا جائے یا بے نثمر درختوں سے پھل توڑا جاتے، یا چند مادر زاد اندھوں کو بینائی عطا کی جائے۔لیکن یہ سب عیدے تو عارضی نوعیت کے تماشے تھے جن سے بنی نوع انسان کی خدمت اور اسلام کی برتری کا مستقل سامان پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔پھر یہ اس تقسیم کے شعبدے تھے کہ دنیا کے بہت سے بازاری مداری بھی ان سے ملتے جلتے تماشے دکھا کر نظر کے دھوکے کا سامان کرتے رہے ہیں۔علمی روشنی اور سائنسی ترقی کے اس زمانہ میں خدا تعالٰی سے اس قسم کا نشان طلب کرنا ایک ایسا ہی فعل تھا جیسے ایک عظیم الشان شہنشاہ کی خاص رضامندی کے لمحات میں کوئی بدنصیب اس سے دو چاریے روٹی کے ایک ٹکڑے یا چھٹے پرانے کپڑے کا سوال کر دے ! چونکہ حضرت مرزا صاحب کا مشن عالمگیر تھا اس لئے آپ کو ایک نشان چاہئے تھا جو عالمگیر حیثیت کا حامل ہو اور سورج کی طرح مشرق و مغرب پر چھکے ، اور آپ کے مشن میں براہِ راست محمد و معاون ہو۔