سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 333 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 333

جمع ہوئے۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے اتحاد و اتفاق سے رہنے اور اس نازک موقع پر اختلافی بخشیں ترک کر دینے کی تلقین فرمائی۔اس کے بعد مولانا محمد علی صاحب نے اس موضوع پر پُر زور خطاب فرمایا کہ اُنکے ہم خیال دوستوں کی اور اُن کے نظریات کی مذمت کرنے والے لوگ باز آجائیں۔ورنہ فتنہ پیدا ہوگا۔چنانچہ اس رنگ میں جناب مولانا صاحب مرحوم وہ سب کچھ کہہ گئے جس کے نہ کہنے کی تاکید کے لئے یہ جلسہ منعقد کیا گیا تھا۔اس قسم کی بخشیں صرف قادیان تک محدود نہ تھیں بلکہ با قاعدہ مہم کی صورت میں نمائندگان کو بھیجوا کر مختلف جماعتوں میں نظام خلافت کے خلاف پراپیگنڈہ کروایا جار ہا تھا اور جہاں جہاں مولانا محمد علی صاب کے ہم خیال دوست موجود تھے وہ کسی نہ کسی رنگ میں ضرور یہ مسئلہ چھیڑ دیتے تھے۔مکرم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب ان دنوں انگلستان میں تھے۔اس بارہ میں آپ کی ایک روایت بھی پڑھنے - سے تعلق رکھتی ہے :- یر میں خواجہ کمال الدین صاحب لندن تشریف لاتے۔۔۔تھوڑے عرصہ بعد خواجہ صاحب اس مکان میں آگئے جس میں میں رہتا تھا اور مجھے روزانہ کچھ وقت اُن کی صحبت میں گزارنے کا موقع مل گیا۔دوران گفتگو سلسلہ احمدیہ کا ذکر بھی آتا تھا۔ایک دفعہ ہم دونوں سیر کے لئے جارہے تھے کہ فرمایا " نور الدین کے بعد خلافت کے متعلق بھی رولا ہی پڑے گا گفتگو پنجابی زبان میں تھی اور محبت کے رنگ میں خواجہ صاحب اکثر خلیفہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کا نام اسی بے تکلفی سے لیتے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر بعض دفعہ صرف مرزا " کہ کر کرتے تھے )۔میاں محمود ابھی بچہ ہے۔محمد علی بہت حساس ہے۔بات بات پر روپڑتا ہے۔اور میں ہوں لیکن مجھ میں یہ نقص ہے کہ میں سچی بات منہ پر کہہ دیتا ہوں۔مجھ سے لوگ خفا ہو جاتے ہیں " میں نے عرض کیا " خواجہ صاحب ! خلافت کے متعلق حضرت خلیفہ المیسے اپنی لاہور کی تقریر میں بہت کچھ وضاحت فرما چکے ہیں آپ کیوں فکر کرتے ہیں۔وقت آنے پر اللہ تعالیٰ جسے پسند فرماتے گا کھڑا کر دے گا اس پر فرمایا " یہ مفتی صادق کم بخت ہمارے خلاف سب کچھ شائع کر دیتا ہے۔ہمارے حق کی کوئی بات نہیں لکھتا ہے تحدیث نعمت صد ۵ام ۴۶۰