سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 283
دیار محبوب سے نامہ محمود ( ایده الله الودود) سب خوبیوں میں کامل پاکان حق میں شامل محمود ابن مهدی یہ نوجوان ہمارا منقول از اخبار الحكم قادیان ، دسمبر له " " اس ہفتہ کی ولائتی ڈاک ہمارے اولو العزم مخدوم حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ایده الله بنصرہ العزیز و متعنا الله بطول حیاتہ کے کئی خط لے کر آتی جو ہمارے سید و مولی امام حضرت امیر المومنین کے نام ہیں۔ان خطوط کو پڑھ کر ہر ایک احمدی کا دل دعا کے لئے جوش سے متحرک ہوگا۔میری اپنی تو یہ حالت تھی کہ حضرت امیر المومنین اپنی غایت شفقت سے جب ان خطوط کا مضمون آج اور دسمبر کو مجھے زبانی سُنا رہے تھے تو تواجد کی حالت پیدا ہو رہی تھی اور میں حضرت کے چہرہ کو دیکھتا اور اُن کی آواز کو سُنتا تو اس سے مجھے ایسا معلوم ہوتا کہ آپ پر جوانی کا زمانہ عود کر آیا ہے چهره پر مسرت (ایسی مسترت جو حمد الہی سے ملی ہوتی ہو) کا خون دوڑتا تھا اور آواز میں بھی جوش ایسا جوش جو حمد الله وشکر اللہ سے معلومہ پایا جاتا تھا۔حضرت صاحبزادہ صاب کے ایک فقرہ کا مفہوم جب آپ نے سُنایا کہ دعاؤں کی بڑی تحریک ہوئی تو میں نے عرض کیا کہ حضور نے خود ایک مرتبہ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے فیوض میں سے یہ بات بتائی تھی کہ دعاوں کے بڑے موقعے ملتے ہیں۔غرض حضرت امیر المومنین کو بڑی خوشی اِن خطوط کو پڑھ کر ہوئی۔خدا تعالیٰ کے محض فضل سے یہ خطوط مجھ کو مل گئے ہیں۔میں احمدی قوم میں دیار محبوب سے آتے ہوئے نامہ محمود کو شائع کرنے کی عزت حاصل کرتا ہوں ان خطوط کے مطالعہ سے حضرت صاحبزادہ صاحب کی پاک سیرت اُن کے پاک مقاصد و اغراض کا پتہ لگے گا۔کیونکہ سیرت کا مطالعہ کسی شخص کی خواہشوں اور دعاوں سے خوب ہوتا ہے۔کاش یورپ کے سوانح نگار اس لطیف اصل کو سمجھتے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لائف کو اس نکتہ معرفت سے دیکھتے میری آرزو ہے اگر خدا تعالیٰ نے چاہا اسی رنگ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لائف دکھاؤں۔بہر حال