سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 275
۲۷۵ میں سب سے زیادہ پیش قدمی کی اور پھر با وجود اس کے جس شہر سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو محبت تھی جس کی نسبت میں آپ کا فیصلہ ایک مدت پہلے سے آپ کی زبان سے سن چکا تھا۔میرے سامنے ایک طرف تو قبروں کا سلسلہ تھا کہ جس میں بڑے بڑے اولیا مدفون تھے اور بڑے بڑے اقطاب، غوث امن کی نیند سورہے تھے اور دوسری طرف وہ لوگ نظر آتے تھے کہ جن کو خدا اور رسول سے کچھ تعلق ہی نہیں۔اور جو ہر وقت دُنیا کے دھندوں میں پھنسے ہوئے دُکھ اور تکلیفیں اُٹھا رہے ہیں۔ایک طرف تو مجھے وہ لوگ نظر آتے تھے جو قبروں میں ہوشیار اور مرنے کے بعد زندہ ہیں۔اور ایک طرف وہ لوگ جو باوجود آنکھیں کھلی ہونے کے بے ہوش اور باوجود زندہ ہونے کے مردہ تھے۔ایک طرف تو وہ گروہ تھا جنہوں نے اپنی زندگی ہی میں اپنے آپ کو مارا مگر اور دنیا کو زندہ کر دیا مگر دوسری طرف وہ جماعت تھی کہ جنہوں نے باوجود مُردہ ہونے کے اپنے آپ کو زندہ سمجھا اور اپنے فائدہ کی خاطر اور لوگوں کو بھی ہلاک کیا۔غرض کہ دہی کا ایک ایک آدمی اور ایک ایک مکان اور ایک ایک گلی اور ایک ایک مقبرہ اور ایک ایک خانقاہ اور ایک ایک مسجد الگ شان خدا نمائی رکھتی تھی جو میرے دل پر اثر کئے بغیر نہیں رہتی تھی غرض بہت سی مختلف کیفیتیں میرے دل میں پیدا ہوئیں۔میرے وہاں پہنچنے پر معلوم ہو ا کہ میر قاسم علی صاحب نے جو ایک پر جوش اور مخلص احمد کی ہیں، دہلی میں میرا کوئی لیکچر کروانے کی بھی تجویز کی ہوتی ہے۔چونکہ میں نے وہاں صرف ایک دو دن ہی ٹھہرتا تھا، اس لئے ہفتہ کی رات کو لیکچر قرار دیا۔اور مضمون اسلام اور آریہ مذہب قرار پایا جمعرات کو ہم سب لوگ نظام الدین اولیا ، ہمایوں بادشاہ منصور اور خواجہ قطب الدین صاحب کے مقابر دیکھنے کے لئے روانہ ہوتے۔سب سے پہلے تو وہ قلعہ دیکھا جہاں لودھی خاندان کے بادشاہ رہا کرتے تھے اور جہاں ہمایوں بادشاہ نے بھی اپنی جائے رہا ئش بنائی تھی۔یہ قلعہ بجائے خود ایک عبرت کا مقام ہے بلکہ نہایت ہی عبرت کا مقام ہے کیونکہ یا تو کسی وقت اس کی وہ شان و شوکت تھی کہ ہندوستان کے عظیم الشان بادشاہ اس میں رہتے تھے اور یہ اُن کا عشرت کدہ تھا۔لیکن آج یہ حالت ہے کہ وہ فصیل جو سخت خطر ناک اور طاقتور دشمنوں کی روک تھام کے لئے بنائی گئی تھی اب نہایت شکستہ حالت میں ہے۔پتھر گرے ہوئے ہیں