سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 265 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 265

۲۶۵ سورۃ فاتحہ کی تفسیر مشتمل تھی۔۲۷ جنوری کو آپ 4 بجے صبح جہلم سے بذریعہ ویل مندرا اسٹیشن پر اُترے اور تانگہ پر سوار ہوکر شام کے چھ بجے چکوال رونق افروز ہوئے۔راستہ میں چک نورنگ کے احمد نی علاقہ دار با یو غلام حیدر اور علاقہ دار سید رکن شاہ اور سید اللہ وہ نمبردار چوہان نے آپ کا استقبال کیا۔چکوال میں ایک مختصر سے خطاب کے بعد ۲۹ جنوری کو آپ تانگے پر سوار ہو کر چک نورنگ تشریف لے گئے جہاں شام کو مردوں اور عورتوں میں الگ الگ وغفظ کیا۔چک نورنگ سے آپ گھوڑے پر سوار ہو کر ۳۰؍ جنوری کو چوہان پہنچے اور جمعہ پڑھانے کے بعد ایک عام لیکچر دیا۔جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کھول کھول کر بیان فرمائی۔یہ تقریر بڑی دلپذیر تھی اور لوگوں پر اس کا گہرا اثر ہوا۔اگلے دن اسر جنوری آدھی رات کو آپ چوہان سے بذریعہ ریل مسلم پہنچے اور صبح جو بھی گھاٹ میں حضرت میسج موعود علیه السلام کی صداقت پر زبر دست لیکچر دیا۔لیکچر گاہ با وجود مخالفت کے پر تھی۔شام کو آپ جہلم سے گوجرانوالہ پہنچے اور وہاں کی جماعت سے خطاب فرمایا۔دوسرے دن صبح چار بجے ریل پر سوار ہوئے اور شام کو بٹالہ پہنچ کر بوقت عشا قادیان دارد ہوئے نہ لے - یہ تو آپ کے تبلیغی اور تربیتی سفر تھے علم ومعرفت کی تلاش میں آپ نے بعہد خلافت اُولیٰ بعض علمی سفر بھی کئے۔آپ کے بعض تعلیمی سفر پہلا سفر آپ نے اندرون ملک بعض مشہور مدارس اسلامیہ کے معائنہ اور وہاں کے علمی ماحول کے مطالعہ کی غرض سے اختیار کیا۔اس سفر میں : وثر مولاناسید سرور شاہ صاحب ، قاضی امیر حسین صاحب حافظ روشن علی صاحب سید عبد الحمی عرب صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی آپ کے ساتھ تھے۔روانگی سے قبل یہ وفد حصول دُعا کے لئے حضرت خلیفہ المسیح رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا :- له الفضل اور فروری ساده