سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 264
مهم اما سلام نماز سے فارغ ہو چکے تھے اس نے حاضر ہو کر درخواست کی کہ آپ اس کے ہاں قیام فرمتیں مگر آپ نہ مانے۔پھر اس نے میرا خط دکھایا اور اصرار کیا کہ شرفاتے شہر کو سفارش کے لئے نے آؤں گا۔اس پر آپ نے فرمایا میں تو ان احمدی دوستوں کا مہمان ہوں، ان کی اجارت سے ہی جا سکتا ہوں۔پہلے تو دوستوں نے بھی معذرت کی اور کہا یہ تو مبلغ میں تبلیغ کریں گے اور اس طرح شاید آپ کے لئے مشکلات پیدا ہوں لیکن کو توال نے کہا بھلا تم مجھ سے زیادہ کہاں تبلیغ کروا لو گے جتنے آدمی کہو گے بلوا دوں گا۔غرضیکہ احمدی دوست مصلحتاً مان گئے اور اس طرح وہ حضرت صاحبزادہ صاحب کو اپنے ہاں لے گیا۔آپ کے اعزاز میں بہت بڑی دعوت دی۔معززین کو مدعو کیا۔جب سب لوگ آگئے تو حضرت صاحبزادہ صاحب سے کہنے لگا۔یہ کھانا تو ہم ہر روز کھاتے ہیں۔نئی چیز تو آپ کی روحانی باتیں ہیں پہلے یہ روحانی کھانا کھلائیں۔پھر یہ کھانا بھی چنا جائے گا۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ صاحب نے ایک سحرآ گئیں تقریر فرمائی جس کا مدعوئین پر خاص اثر ہوا۔تقریر کے بعد کھانا کھایا گیا۔اور لوگ خوشی خوشی رخصت ہوئے۔کو تو ال عبد الغفار خاں نے آپ سے عرض کیا کہ ابھی میرا دل نہیں بھرا۔آپ کچھ آرام فرما لیں تو آپ کو شہر کے مولویوں کے پاس نے جاؤں گا تا کہ۔فرمالیں " ان کو بھی تبلیغ ہو سکے یا تجھے غرض اللہ تعالیٰ کے فضل سے صحت کی بحالی کے ساتھ ساتھ تبلیغ کے لحاظ سے بھی آپ - 1910 کا یہ سفر بہت کامیاب رہا۔191ء میں حضرت خلیفہ المسیح رضی اللہ عنہ کے ارشاد پر آپ نے چکوال ضلع جہلم کے علاقہ تبلیغی دورہ کیا۔اس دورے کی رپورٹ الفضل میں ان الفاظ میں شائع ہوتی :- ۲۴ جنوری ۱۹۱۷ء کو مفتی فضل الرحمان صاحب کے ہمراہ قادیان سے آپ روانہ ہوئے۔لاہور پہنچ کر آپ نے ۲۵ جنوری کی شام کو جماعت لاہور کی درخواست پر ایک پر معارف لیکچر دیا میں میں آیت اُدْعُونِي استجب لكم " کی تفسیر کرتے ہوئے زمانہ حال کے مسلمانوں کا صحابہ کی قربانیوں سے مقابلہ کیا اور آخر میں جماعت کو تبلیغ حق کی ضرورت واہمیت بتائی اور اُن کے فرائض کی طرف توجہ دلائی۔تقریر کے بعد اُسی دن لاہور سے روانہ ہوکر بجے شب جہلم پہنچے۔۲۶ جنوری کو نماز ظہر کے بعد جہلم میں آپ نے ایک تقریر فرمائی جو له مستوده روایات حضرت شیخ فضل احمد صاحب مرحوم