سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 257
ros ذہب کے پیرو ہونے کی حیثیت سے۔اس لئے میں مندرجہ ذیل گفتگو میں اپنے نام کی جگہ خاب کے کی ہے۔میں مندرجہ میں طالب حق کا لفظ استعمال کروں گا۔- طالب حق پادری صاحب! آپ کا تثلیث کے متعلق کیا خیال ہے ؟ ! پادری صاحب میرا خیال ہے کہ شکلیت تین اقوم کا نام ہے۔ایک اقنوم خدا باپ - ایک اقنوم مسیح بنیا اور ایک روح القدس۔اور میں ان تینوں کی خدائی کا قاتل ہوں۔طالب حق پادری صاحب ! آپ کی اقنوم سے کیا مراد ہے ؟ پادری صاحب (مسکرا کر اقنوم آپ ہی کی زبان کا لفظ ہے۔طالب حق بے شک ہماری زبان کا لفظ ہے لیکن ہم خدا تعالیٰ کی نسبت اس لفظ کا استعمال نہیں کرتے۔اس لئے جب خدا تعالیٰ کی نسبت یہ لفظ استعمال ہو تو ہمیں اس کے معنے سمجھنے میں دقت ہوتی ہے۔پادری صاحب۔میں تو اور اس کے لئے کوئی لفظ تجویز نہیں کر سکتا۔طالب حق اگر آپ اُردو یا عربی میں اس کے لئے کوئی اور لفظ تجویز نہیں کر سکتے تو انگریزی میں ہی سہی۔پادری صاحب۔انگریزی میں ہم اس کے لئے پر سیو نیلیٹی استعمال کرتے ہیں۔حق میں نے ایک امریکن پادری سے دریافت کیا تھا تو انہوں نے اس کے معنے کیپیٹی کے بناتے تھے۔پادری صاحب نہیں نہیں اس کے معنے پر سیونیلیٹی کے ہیں۔طالب حق مجھے تو۔۔۔نہ اقوم کے معنی سمجھ آتے ہیں اور نہ پر سیو نیلیٹی کے ہیں آپ سے کھول کر پوچھنا چاہتا ہوں۔آپ یہ فرمائیے کہ یہ تینوں کیا حیثیت رکھتے ہیں۔مثلاً یہی کہ دنیا کا خالق کون ہے ؟ پادری صاحب آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ محبت ہے۔اس میں محبت کا مادہ ہے۔وہ چاہتا ہے کہ کسی چیز سے محبت کرے اور یہ تمام دنیا کی چیزیں فانی ہیں اصلی نہیں ہیں۔اس لئے ضرور کی تھا کہ ایک ایسا وجود ہوتا کہ جس سے خدا محبت کرتا۔سو اس لئے بیٹے کی ضرورت تھی اور اس کو تو آپ بھی مانتے ہوں گے کہ اگر کوئی ایسا وجود نہ ہو کہ نہیں سے خدا محبت کرے تو