سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 198
صلے اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی آیا ہے وَلَا يَعْصِنَكَ فِي مَعْرُدن اب کیا ایسے لوگوں نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عیوب کی بھی کوئی فہرست بنائی ہے ؟ اسی طرح حضرت صاحب نے بھی شرائط بعیت میں طاعت در معروف لکھا ہے۔اس میں ایک ستر ہے نہیں تم میں سے کسی پر ہر گز بدان نہیں۔میں نے اس لئے ان باتوں کو کھولا ہے تا تم میں کسی کو اندر ہی اندر دھوکا نہ لگ جائے۔۔۔میں ایسے لوگوں کو جماعت سے الگ نہیں کرتا کہ شاید وہ سمجھیں پھر سمجھ جائیں پھر سمجھے جائیں۔ایسا نہ ہو کہ اُن کی ٹھوکر کا باعث بنوں میں اخیر میں پھر کہتا ہوں کہ آپس میں تباغض و تحاسد کا رنگ چھوڑ دو۔کوئی آمر امن یا خوف کا پیش آجا دئے عوام کو نہ سناؤ۔ہاں جب کوئی امر طے ہو جاتے تو پھر بے شک اشاعت کرو۔اب میں تمہیں کہتا ہوں کہ یہ باتیں تمہیں ماننی پڑیں گی طوعاً و کرھا اور آخر یہ کہنا پڑے گا اتنا طائعین جو کچھ میں کہتا ہوں تمہارے پھلے کی کہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ مجھے اور تمہیں راہ ہدایت پر قائم رکھے اور خاتمہ بالخیر کرے۔آمین اله حضرت خلیفہ البیع الاول کی اس تقریر کے قریباً ڈیڑھ سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت صاحبزادہ صاب کو ایک دفعہ پھر رویا کے ذریعہ خبردار فرمایا کہ جماعت احمدیہ کے ایک کمزور جھتے کا ٹوٹ کر الگ ہو جانا مقدر ہے۔لہذا باقی عمارت کی مضبوطی اور تعمیر نو کی طرف توجہ ہوئی ضروری ہے۔اس تنبیہ کے نتیجہ میں آپ نے بعض احتیاطی تدابیر اختیار فرمائیں اور ایک باقاعدہ انجمن کا قیام فرمایا جو خلافت کے ساتھ کامل وابستگی کا عہد کرتے ہوئے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں اتحاد و اتفاق قائم رکھنے کے لئے کوشاں رہے۔اس کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں :- چند دن کا ذکر ہے کہ صبح کے قریب میں نے دیکھا کہ ایک بڑا محل ہے اور اس کا ایک حصہ گرا رہے ہیں اور اس محل کے پاس ایک میدان ہے۔اور اس میں ہزاروں آدمی پیتھیروں کا کام کر رہے ہیں اور بڑی سرعت سے انہیں پا تھتے تھے میں نے پوچھا کہ یہ کیسا مکان ہے اور یہ کون لوگ ہیں، اور اس کے بدر جلد ۸ نمبر ۵۲ بلد نمبر ۵۲ و الحكم ۲۰ / اکتوبر شله ( بحواله تاریخ احمدیت جلد سهم منه ۲۹۱٬۲۹)